نائیجیریا میں کانکنی کے دوران زہریلی گیس کا رساؤ، کم از کم 37 افراد جاں بحق، 26 لوگ اسپتال میں داخل
پولیس کے مطابق شمال وسطی نائیجیریا واقع ایک کان میں زہریلی گیس کا رساؤ ہوا ہے۔ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ مزدور سیسہ آکسائیڈ، سلفر اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسوں کے اچانک رساؤ سے متاثر ہوئے۔

نائیجیریا واقع ایک کان میں زہریلی گیس کے رساؤ کی وجہ سے درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور کئی کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعہ کے تعلق سے نائیجیریائی پولیس جانکاری دیتے ہوئے کم از کم 37 افراد کی ہلاکت کے بارے میں تصدیق کی ہے۔ یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ گیس رساؤ سے متاثر تقریباً 26 لوگوں کو علاج کے مقصد سے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق شمال وسطی نائیجیریا واقع ایک کان میں زہریلی گیس کا رساؤ ہوا ہے۔ پولیس ترجمان الفریڈ الابو نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعہ منگل کی صبح کا ہے جب واسے علاقہ واقع کمپانی جوراک طبقہ کو اس مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ مزدور سیسہ آکسائیڈ، سلفر اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسوں کے اچانک رساؤ سے متاثر ہوئے۔ یہ گیسیں انسانوں کے لیے زہریلی اور مضر ہیں، خصوصاً بند یا کم ہوادار ماحول میں یہ مہلک ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی لاشیں متاثرہ کنبوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، تاکہ وہ مذہبی رسوم کے مطابق آخری رسومات ادا کر سکیں۔ فی الحال نائیجیریائی حکومت نے کانکنی والی جگہ کو بند کر دیا ہے اور رساؤ کی جانچ جاری ہے۔ نائیجیریا کے وزیر برائے ٹھوس معدنیات ڈیلے الاکے نے ایک بیان میں کہا کہ مزدور زہریلی گیس کے اخراج سے انجان تھے اور انھوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ حادثہ نے اتنی سنگین شکل اختیار کر لیا۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مزدور کانکنی والے مقام پر کس شئے کی کانکنی کر رہے تھے، اور کیا کانکنی قانونی طور پر ہو رہی تھی۔ نائیجیریا ملک بھر میں سونے کی غیر قانونی کانکنی پر لگام لگانے کی کوششیں کر رہا ہے، کیونکہ اس وجہ سے گزشتہ کچھ سالوں میں سینکڑوں ہلاکتیں سامنے آ چکی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔