
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
بچوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں کچھ دنوں سے بڑھ گئی ہیں۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنی فکر مندی ظاہر کی ہے اور مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ حقائق کا پتہ لگائے۔ مرکز سے یہ جانکاری حاصل کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ بچوں کے لاپتہ ہونے کے پیچھے کوئی ملک گیر نیٹورک تو شامل نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’آپ پتہ لگائیں، کیا پورے ملک میں ایسا کوئی نیٹورک ہے یا پھر کسی ریاست میں ہی ریاسطی سطح پر ایسا چل رہا ہے؟‘‘
Published: undefined
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں بچوں کے غائب ہونے کی خبریں کافی زیادہ دیکھی گئی تھیں۔ جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اُجول بھوئیاں نے اس معاملہ میں کہا کہ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ لاپتہ بچوں کے پیچھے ایک ہی پیٹرن ہے یا پھر ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایسے واقعات کا سبھی ریاستوں سے تفصیل حاصل کرے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔
Published: undefined
دوسری طرف لکھنؤ ہائی کورٹ میں ایک اہم سماعت ہوئی، جس میں یہ بات سامنے رکھی گئی کہ اتر پردیش میں گزشتہ 2 سالوں میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ لاپتہ ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے اس بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے چنہٹ باشندہ وکرما پرساد کا بیٹا جولائی 2024 میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ چنہٹ تھانہ میں انھوں نے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی، لیکن پولیس کی طرف سے اطمینان بخش کارروائی نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ مایوس ہو کر انھوں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی اور عدالت کے سخت رخ کے بعد واقعہ کے تقریباً 5 ماہ بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔
Published: undefined
وکرما پرساد کی اس عرضی پر ہائی کورٹ کی لکھنؤ ڈویژن بنچ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران جسٹس عبدالمعین اور جسٹس ببیتا رانی نے حکومت سے ریاست بھر میں گمشدہ لوگوں کی جانکاری طلب کی اور تفصیلی حلف نامہ مانگا۔ جب اس معاملہ میں حکومت کی طرف سے جانکاری دی گئی تو سماعت کرنے والی بنچ کے ججوں کے بھی ہوش اڑ گئے۔ یوپی کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) کی طرف سے ہائی کورٹ میں داخل حلف نامہ میں بتایا گیا کہ یکم جنوری 2024 سے 18 جنوری 2026 تک ریاست میں مجموعی طور پر 108300 لوگ گمشدہ ہوئے، جن میں صرف 9700 لوگوں کے بارے میں پولیس پتہ لگا سکی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined