
علامتی تصویر / اے آئی
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دیوالی کے موقع پر دہلی-این سی آر کے لوگوں کو دو دن تک گرین پٹاخے جلانے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق 7 اور 8 نومبر کو مخصوص اوقات میں صرف مصدقہ گرین پٹاخے ہی جلائے جا سکیں گے، جبکہ 9 نومبر سے علاقے میں پٹاخوں پر مکمل پابندی دوبارہ نافذ ہو جائے گی۔ فضائی آلودگی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر عدالت نے اس سلسلے میں کئی شرائط بھی عائد کی ہیں۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ 7 اور 8 نومبر کو صبح 6 سے 7 بجے اور رات 8 سے 10 بجے تک ہی پٹاخے جلانے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے وقت آتش بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اجازت سپریم کورٹ کے 15 اکتوبر 2025 کے حکم کے مطابق دی گئی ہے۔
عدالت نے اسپتالوں، نرسنگ ہومز، بنیادی اور ضلعی صحت مراکز، بزرگوں کے رہائشی مراکز اور نوٹیفائیڈ سائلنس زون کے 300 میٹر کے دائرے میں پٹاخے جلانے پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ ان مقامات کو نو کریکر زون قرار دیا جائے گا۔ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں کی زمینی سطح پر نشاندہی کریں اور اس کی معلومات عوام کے لیے بھی جاری کریں۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ان ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کی صحت اور سہولت کا خیال رکھا جائے جو پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جنہیں فضائی آلودگی یا پٹاخوں کے دھوئیں سے پریشانی ہو سکتی ہے۔
عدالت نے گرین پٹاخوں کی تیاری کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ صرف کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کی نیشنل انوائرنمنٹل انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (نیری) سے تصدیق شدہ اور پی ای ایس او سے متعلقہ قانونی منظوری حاصل کرنے والے گرین پٹاخے ہی تیار کیے جا سکیں گے۔ 2 سے 6 نومبر 2026 کے درمیان مینوفیکچررز صرف وہی مصدقہ گرین پٹاخے تیار کر سکیں گے جن کی تفصیلات سی ایس آئی آر-نیری کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہوں گی۔
عدالت نے کہا کہ دیوالی خوشیوں کا تہوار ہے، لیکن اس دوران ہونے والی آتش بازی سے لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ اس لیے تہوار مناتے ہوئے آلودگی کے مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شہریوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کا تعاون ضروری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔