موت کے بعد بھی 6 لوگوں کو زندگی کی نئی روشنی فراہم کر گئی 13 سال کی معصوم
13 سالہ گڈا روہیتا کی دونوں کڈنی، لیور کے 2 حصے اور دونوں آنکھوں کے کارنیے 6 ضرورت مند مریضوں کے کام آئے۔ سڑک حادثے میں شدید طور پر زخمی ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ’برین ڈیڈ‘ قرار دے دیا تھا۔

حیدرآباد میں 13 سال کی ایک لڑکی نے موت کے بعد 6 لوگوں کو نئی زندگی دے دی۔ سڑک حادثے میں شدید طور پر زخمی ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ’برین ڈیڈ‘ قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد اہل خانہ نے ہمت و حوصلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے اعضاء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بچی کی دونوں کڈنی، لیور کے 2 حصے اور دونوں آنکھوں کے کارنیے 6 ضرورت مند مریضوں کے کام آئے۔ بچی کی شناخت گڈا روہیتا کے طور پر ہوئی ہے۔
روہیتا کُکٹپلی کے ایک سرکاری اسکول میں 9ویں جماعت کی طالبہ تھی۔ 20 اکتوبر کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ آٹو رکشہ سے مندر سے لوٹ رہی تھی۔ اسی دوران بالانگر فلائی اوور کے پاس پیچھے سے آ رہی تیز رفتار لاری نے آٹو کو ٹکر مار دی۔ حادثہ میں روہیتا شدید طور پر زخمی ہو گئی تھی۔ اسے علاج کے لیے حیدرآباد کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن اس کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ آخرکار 30 اکتوبر کو ڈاکٹروں نے اسے برین ڈیڈ قرار دے دیا۔
بیٹی کی موت سے اہل خانہ پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا، لیکن اس مشکل وقت میں اس کے والد نارائن راؤ اور خاندان کے دیگر ممبران نے اعضاء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ’جیون دان انگ دان‘ پروگرام کے تحت روہیتا کے اعضاء عطیہ کرنے کی رضامندی دے دی۔ اس کے بعد روہیتا کی دونوں کڈنی، لیور کے 2 حصے اور دونوں آنکھوں کے کارنیے نکالے گئے۔ ان اعضاء سے 6 مریضوں کو نئی زندگی ملی۔
حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور روہیتا کے اہل خانہ کے فیصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی بیٹی کو کھونے کے گہرے صدمے کے باوجود اہل خانہ نے اعضاء عطیہ کرنے کے لیے آگے آ کر ایک بہت بڑی مثال پیش کی ہے۔ سجنار نے اپنے پیغام میں کہا کہ آخری سانس لینے کے بعد بھی چھوٹی روہیتا نے 6 لوگوں کو نئی زندگی بخش دی۔ اعضاء عطیہ کرنے کے اس بے لوث عمل کے ذریعہ اس نے ایسی وراثت چھوڑی ہے، جو دوسروں کو ہمیشہ ترغیب دیتی رہے گی۔ ساتھ انہوں نے خاندان کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بچی کی روح کے سکون کے لیے دعا بھی کی۔
