عقل کے اندھوں کا فرمان!... ابھے شکلا

گیانیش کمار کا یو-ٹرن سیدھے طور پر جرم کا قبول نامہ ہے۔ ان کی تمام کارگزاریوں نے بنگال اور بہار میں بی جے پی کو انتخاب میں فتحیاب کرانے کا ہی کام کیا۔

<div class="paragraphs"><p>چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار</p></div>
i

گیانیش کمار اور ان کی مشتبہ حرکتوں کے دفاع میں 124 سابق نوکرشاہوں کی جانب سے جاری کردہ کھلا خط پڑھ کر مجھے مورس سوئٹزر کا وہ مشہور خیال یاد آ گیا کہ ’’خاموش رہ کر احمق سمجھا جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ منہ کھولیں اور باقی ماندہ شبہات کو بھی دور کر دیں۔‘‘

حالانکہ اس خط سے مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ میرے اپنے واٹس ایپ گروپس میں ایسے نوکرشاہوں کی اچھی خاصی تعداد ہے، جو اندر سے مودی جی کے قبیلے کے ہی حامی ہیں۔ مجھے جس بات نے واقعی حیران کیا، وہ یہ تھی کہ کم از کم اس بار انہوں نے منہ کھولنے کی زحمت تو اٹھائی۔ مانا کہ وہ تاریخ کے غلط خیمے میں کھڑے ہو کر بولے، لیکن اپنے بلوں سے باہر تو نکلے! ایسے لوگ عام طور پر پس منظر کے محفوظ حصار میں دبکے رہنے اور دونوں طرف اپنی گوٹیاں بٹھائے رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔


وہ کبھی بہتی کشتی کو نہیں ہلاتے، کبھی کوئی واضح موقف اختیار نہیں کرتے، ہمیشہ طلوع ہوتے سورج کی پوجا کرتے ہیں اور انہیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی روٹی پر گھی کس طرف سے لگایا گیا ہے۔ مجھے پختہ شبہ ہے کہ مودی جی کے شاطر مشیروں نے ہی انہیں اس پر رضامندی ظاہر کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا۔ کچھ رعایتوں، عہدوں اور چارج شیٹوں کے لین دین کی بات ہوئی ہوگی، تاکہ وہ طے شدہ جگہ پر دستخط کر دیں (اور یہ ان کے لیے کوئی مشکل کام بھی نہیں تھا، کیونکہ اپنے پورے کیریئر میں وہ یہی تو کرتے آئے ہیں)۔

اس خط پر دستخط کرنے والوں کے بارے میں کچھ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ ان میں سے بیشتر ایسے گمنام چہرے ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا، اور ایسا ہونا لازمی بھی ہے، کیونکہ ان کے چہروں پر کالک پُتی ہوئی ہے۔ ایک آدھ پر غبن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں؛ ایک صاحب کچھ عرصہ پہلے ایک خواتین کالج کے پروگرام میں اپنی تنگ نظری اور خواتین مخالف سوچ کا کھلے عام مظاہرہ کر چکے ہیں؛ ایک دیگر صاحب، جو اب ایک مرکزی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں، طویل عرصے سے بی جے پی کے اندھے عقیدت مند رہے ہیں؛ کچھ لوگ وویکانند فاؤنڈیشن اور او آر جی جیسی دائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں؛ اور ان میں ایک صاحب ایسے بھی ہیں جو عوامی طور پر اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے سیاسی دباؤ میں آکر انتظامی احکامات جاری کیے تھے! یہ ایسے ’سماجی طور پر باشعور‘ شہری بالکل نہیں ہیں جن پر اس حکومت اور الیکشن کمیشن جیسی اس کی کٹھ پتلیوں کی کارگزاریوں کے بارے میں غیر جانبدارانہ رائے رکھنے کا بھروسا کیا جا سکے۔ سیدھے الفاظ میں کہیں تو ان کی ساکھ پوری طرح مشتبہ ہے۔


یہ کھلا خط اپنے آپ میں خوشامد کا پلندہ اور عقل کے اندھوں کا فرمان محض ہے۔ یہ الیکشن کمیشن کی ’تاریخی‘ کامیابیوں کی شان میں قصیدے پڑھتا ہے (جو ظاہر ہے ماضی کی باتیں ہیں، موجودہ نظام کی نہیں)، ایس آئی آر (خصوصی گہری نظرثانی) کو ایک انتہائی ضروری مشق قرار دے کر اس کی حمایت کرتا ہے، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور مودی حکومت کی پالیسیوں کی پوری طرح آنکھ بند کرکے حمایت کرتا ہے (اور ایسا ہونا فطری بھی تھا، کیونکہ وہ خودکش جاپانی جنگجوؤں کی طرح خود ہی اس اقتدار کی تلوار پر لوٹ چکے ہیں)۔

یہ ’جی-124‘ جس فرضی دشمن پر حملہ کرنے کا ڈھونگ رچ رہا ہے، وہ دراصل سابق نوکرشاہوں کے ایک دوسرے گروپ، سی سی جی (کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ) کی جانب سے پہلے جاری کیے گئے خطوط ہیں۔ سی سی جی نے گزشتہ دس برسوں میں ان تمام مسائل پر اصولوں پر قائم رہنے کی بے داغ ساکھ بنائی ہے، جہاں اسے محسوس ہوا کہ حکومت نے آئینی اقدار، بنیادی حقوق اور قانونی دفعات کو پامال کیا ہے۔ شاید اقتدار کے گلیاروں میں کسی کو یہ آنچ برداشت نہیں ہو رہی تھی؟ میں جی-124 کے اس خط میں موجود گمراہ کن دعوؤں، سفید جھوٹ اور بے بنیاد دلیلوں کی دھجیاں اڑانے کی کوشش نہیں کروں گا، کیونکہ یہ کام ایک سینئر ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ایم جی دیوسہایم پہلے ہی حقائق اور ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ انتہائی مضبوط انداز میں کر چکے ہیں (دی وائر، 16 اکتوبر)۔


دہلی میں دوسرے مرحلے کے احتجاجی مظاہروں کے بعد الیکشن کمیشن کا جو رویہ رہا ہے، اس سے بڑھ کر ان خط لکھنے والوں کے جھوٹا ہونے کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں ہو سکتا۔ کمیشن نے ایس آئی آر کی زبردست ناکامی میں اپنی شمولیت اور احساسِ جرم کا تقریباً اعتراف کر لیا ہے۔ ووٹروں کے نام کاٹنے کی اس من مانی کارروائی کی کئی سخت اور غیر قانونی دفعات کو آہستہ آہستہ (اور چپکے سے) واپس لے کر اس نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی خود ہی تصدیق کر دی ہے۔ صرف یاد دلانے کے لیے، گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کمیشن نے درج ذیل بڑے فیصلے کیے ہیں:

  • فارم-6 کے ساتھ شامل کیے گئے بدنیتی پر مبنی اور مشتبہ اعلانیہ بیان کو خاموشی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

  • انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر او) کے لیے ’ای سی آئی نیٹ‘ تک رسائی بحال کر دی گئی ہے (بنگال کے ٹریبونل ججوں کے لیے یہ اب بھی بند ہے!)۔

  • مشتبہ ’ای سی آئی نیٹ‘ سافٹ ویئر کے آڈٹ کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

  • کمیشن نے تسلیم کر لیا ہے کہ دونوں انتخابی کمشنروں نے ادارے کے اندر جاری سنگین بے ضابطگیوں کے سلسلے میں کابینہ سکریٹری کو خط لکھا تھا۔

  • ایک شخص کی جانب سے بڑی تعداد میں جمع کرائے جانے والے بدنام زمانہ ’فارم-7‘ کی تعداد پر اب ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔

  • جن ریاستوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکا ہے، وہاں ووٹر لسٹ سے باہر رہ جانے والے یا نام کاٹے گئے جائز ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم شروع کی گئی ہے۔

  • ایسی 17 ریاستوں میں ان ووٹروں کے نام شامل کرنے کے لیے خصوصی مختصر نظرثانی (ایس ایس آر) شروع کی گئی ہے، جو 18 سال کے ہو چکے ہیں اور ایس آئی آر کے عمل سے چھوٹ گئے تھے۔

  • تمام انتخابی امیدواروں کو اب پی ڈی ایف فارمیٹ میں مشین کے ذریعے پڑھی جا سکنے والی ووٹر لسٹیں فراہم کی جائیں گی۔

  • تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے اور نئے شامل کیے گئے ناموں کی مکمل فہرست فراہم کی جائے گی۔

  • کمیشن نے بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ جن 13 کروڑ ووٹروں کے نام کاٹے گئے، ان میں امت شاہ کے بتائے گئے ’دراندازوں‘ یا ’دیمکوں‘ (گیانیش کمار کے مطابق ایس آئی آر کی سب سے بڑی بنیاد) کی کوئی فہرست یا سرکاری تفصیل اس کے پاس موجود نہیں ہے۔

یہ اپنے آپ میں عدالت میں کسی ملزم کی جانب سے اپنے جرم کا مکمل اعتراف کرنے جیسا ہے۔ یہی وہ انتظامی اقدامات اور معلومات تھیں جن کا مطالبہ پوری اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے کارکنان کئی مہینوں سے کر رہے تھے۔ لیکن اس وقت گیانیش کمار نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ اپوزیشن کے رہنما پہلے اس سلسلے میں حلف نامہ پیش کریں! ان کے اس یو ٹرن نے اس شبہے کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ یہ سب کچھ (بی جے پی کے لیے) بنگال اور بہار کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ جیسے جیسے الیکشن کمیشن کے گرد گھیرا تنگ ہوگا، اس سچائی کے مزید اعترافات کا انتظار کیجیے۔


آخر میں، جی-124 کا یہ خط مختلف خیالات یا اظہار رائے کی آزادی کا کوئی جمہوری مظاہرہ نہیں ہے، جیسا کہ اس کے حامی دعویٰ کر سکتے ہیں۔ یہ براہ راست آمریت، عدم برداشت، انتخابی تطہیر، بنیادی حقوق کی پامالی اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کھلی حمایت اور حوصلہ افزائی ہے؛ اور کوئی بھی مہذب معاشرہ اس طرح کی لفاظی کو ہرگز قبول نہیں کر سکتا۔ یہ طرز عمل جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس نے سول سروس کی باقی ماندہ ساکھ پر بھی کالک پوت دی ہے۔ آخر کسی بھی غلط کام کا ساتھ دینے والا اتنا ہی بڑا مجرم ہوتا ہے جتنا اس جرم کو انجام دینے والا اصل سازشی۔ نیلسن منڈیلا نے جیل کی کوٹھری سے اپنے ملک کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے جو کہا تھا، وہ آج پوری طرح موزوں ہے: ’’کیا آپ ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گے، یا پھر اپنے ہی عوام کے حقوق اور امیدوں کو کچلنے کی سرکاری مہم میں اس کا ہاتھ بٹائیں گے؟‘‘ ہندوستانی عوام سابق نوکرشاہوں کے اس گروہ سے اس سوال کا جواب پانے کے حق دار ہیں۔

(ابھے شکلا ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ یہ ان کے بلاگ سے لیے گئے مضمون کی ترمیم شدہ شکل ہے۔)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔