
ہندوستان کے جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بننے کا اثر شیئر بازار میں بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ ہفتہ کے پہلے کاروباری دن پیر کو کھلنے کے ساتھ ہی بامبے اسٹاک ایکسچینج کے 30 شیئروں والے سینسیکس (بی ایس ای سینسیکس) میں 780 پوائنٹس سے زیادہ کی اُچھال آئی۔ وہیں دوسری طرف نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای نفٹی) بھی طوفانی تیزی کے ساتھ کھلا اور 25000 کے پار نکل گیا۔
Published: undefined
پیر کو شیئر بازار جیسے ہی کھلا سینسیکس اپنے پچھلے بند 81721 کے مقابلے میں زبردست تیزی دکھاتے ہوئے 81,928.95 پر کھلا اور محض کچھ منٹوں میں ہی 780 پوائنٹس کی چھلانگ لگاتے ہوئے 82,492 پر کاروبار کرتا ہوا نظر آیا۔ وہیں نفٹی نے گزشتہ بند 24,853.15 کے مقابلے میں اچھال لیتے ہوئے 24,919.35 پر کاروبار کی اوپننگ لی اور پھر اچانک 25000 کے اعداد و شمار کو عبور کر گیا۔
Published: undefined
ہندوستانی شیئر بازار کے لیے پہلے سے ہی عالمی پیمانے پر مثبت اشارے مل رہے تھے۔ ایشیائی بازاروں کی بات کی جائے تو جاپان کے نیکئی انڈیکس سے لے کر جنوبی کوریا کے کوسپی تک قریب ایک فیصد کی شروعاتی تیزی دیکھی گئی تو وہیں دوسری طرف گفٹ نفٹی شروعاتی کاروبار میں 105 پوائنٹس کی اچھال کے ساتھ کاروبار کر رہا تھا۔
Published: undefined
شیئر بازار میں تیزی کے درمیان تازہ اطلاع کے مطابق بی ایس ای سینسیکس کی 30 لارج کیپ اسٹاکس میں سے 29 میں تیزی کے ساتھ کاروبار جاری تھا۔ اس درمیان 10 سب سے زیادہ تیزی دکھانے والے شیئر میں ایم اینڈ ایم، ٹاٹا موٹرس، ٹائٹن، این ٹی پی سی، آئی سی آئی سی آئی بینک کے شیئر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مڈ کیپ زمرے میں سُزلون، آر وی این ایل کے شیئر ٹریڈ کر رہے ہیں۔ اسمال کیپ زمرے میں گوداوری بایو ریفائنریز، کنٹرول پرنٹ، ٹارزنس کے شیئرس چھلانگ لگا کر کاروبار کر رہے ہیں۔
Published: undefined
غور طلب ہے کہ ہندوستان اب جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ہفتہ کو نیتی آیوگی کے سی ای او وی وی آر سبرامنیم نے یہ اطلاع دی تھی۔ انہوں نے نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کی 10 ویں میٹنگ کے بعد کہا کہ گلوبل اور اقتصادی ماحول ہندوستان کے موافق بنا ہوا ہے اور میں جب بول رہا ہوں تب تک ہم دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہیں۔ آج ہم 4 ہزار ارب ڈالر (4 ٹریلین ڈالر معیشت) کی معیشت بن چکے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined