ایشان کی طوفانی اننگ کی بدولت ہندوستان نے شان سے لی ’سپر-8‘ میں انٹری، پاکستان کو 61 رنوں سے ملی پٹخنی

ایشان کشن کی طوفانی اننگ اور لگاتار دوسری نصف سنچری کی مدد سے ہندوستانی ٹیم نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 175 رنوں کا اسکور کھڑا کیا۔ یہ اسکور پاکستان کے لیے ناممکن ثابت ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>ایشان کشن، تصویر ’ایکس‘ @BCCI</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دفاعی چمپئن ہندوستانی ٹیم نے ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کے اپنے تیسرے مقابلے میں پاکستان کو نہ صرف 61 رنوں سے پٹخنی دے دی، بلکہ ’سپر-8‘ میں انتہائی شان کے ساتھ انٹری بھی مار لی۔ اس جیت کے ہیرو ایشان کشن رہے، جنھوں نے محض 40 گیندوں میں طوفانی 77 رنوں کی اننگ کھیلی۔ ان کی اس اننگ نے ہی میچ کو ایک طرح سے یکطرفہ بنا دیا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ کا سبھی کرکٹ شیدائیوں کو بے صبری سے تھا۔ سبھی ایک دلچسپ مقابلے کی امید کر رہے تھے، لیکن پاکستان چند ایک مواقع کو چھوڑ دیا جائے، تو کبھی بھی ہندوستان کے مقابل کھڑی دکھائی نہیں دی۔ ایشان کشن کی طوفانی اننگ اور لگاتار دوسری نصف سنچری کی مدد سے ہندوستانی ٹیم نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 175 رنوں کا مضبوط اسکور کھڑا کیا۔ یہ اسکور پاکستان کے لیے ناممکن ثابت ہوا، کیونکہ پوری ٹیم محض 114 رنوں پر سمٹ گئی۔ ہندوستانی ٹیم نے اس فتح کے ساتھ ہی ٹی-20 عالمی کپ میں پاکستان کے خلاف اپنے ریکارڈ کو ’1-8‘ کر لیا ہے۔ یعنی 8 مرتبہ فتح ہندوستان کو اور ایک مرتبہ پاکستان کو نصیب ہوئی ہے۔


کولمبو کے پریمداسا اسٹیڈیم میں اتوار کو کھیلا گیا یہ مقابلہ کچھ دن پہلے تک رَد ہونے کے دہانے پر تھا۔ بنگلہ دیش کے ٹی-20 عالمی کپ سے باہر ہونے کے احتجاج میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم 15 فروری کو ہندوستان کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔ کچھ دن تک یہ ڈرامہ چلتا رہا، لیکن بعد میں جب آئی سی سی نے اسے سزا دیے جانے کی تنبیہ کی، تو پی سی بی کو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

آج کے میچ میں ٹاس جیتنے والی پاکستانی ٹیم نے پہلے ہی اوور میں ابھشیک شرما جیسے دھواں دھار بلے باز کو صفر پر آؤٹ کر دیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس مقابلے کو اپنے قابو میں نہیں کر سکی۔ اس کی سب سے بڑی ایشان کشن رہے، جو اس ٹورنامنٹ میں بہترین فارم کے ساتھ داخل ہوئے ہیں۔ پریمداسا اسٹیڈیم کی دوہرے سلوک والی پچ پر ایشان نے محض 40 گیندوں میں 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 77 رن بنا ڈالے۔ پچ کو دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ یہ اننگ پاکستان پر بہت بھاری پڑنے والی ہے، اور ایسا ہی دیکھنے کو ملا۔


ایشان کشن کے علاوہ دیگر بلے بازوں کو تیزی سے رن بنانے میں کافی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان سوریہ کمار یادو (29 گیندوں پر 32 رن) اور تلک ورما (24 گیندوں پر 25 رن) نے ٹیم کے لیے اہم رن بنائے، لیکن رنوں کی رفتار تیز نہیں تھی۔ آخر میں شیوم دوبے نے 17 گیندوں پر 27 رن اور رنکو سنگھ نے 4 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 11 رن بنا کر ہندوستانی ٹیم کا اسکور 7 وکٹ کے نقصان پر 175 رنوں تک پہنچا دیا۔ پاکستان کے لیے صائم ایوب نے سب سے زیادہ 3 وکٹ حاصل کیے۔ سلمان آغا، شاہین آفریدی اور عثمان طارق کو 1-1 وکٹ ملے۔

پاکستان کا بھی پہلا اوور بالکل ویسا ہی گزرا، جیسا ہندوستانی ٹیم کا رہا تھا۔ پہلے اوور میں ہی ہاردک پانڈیا نے صاحبزادہ فرحان کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین بھیج دیا۔ اس کے بعد کی کہانی بالکل مختلف رہی۔ جہاں ایشان کشن نے پاکستان پر جوابی حملہ کر سبھی کو حیران کر دیا تھا، وہیں پاکستانی بلے باز بکھرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ہندوستانی گیندبازوں نے زبردست دباؤ بنایا اور دوسرے اوور میں میچ کی کہانی تقریباً واضح ہو گئی۔ پاکستانی اننگ کے دوسرے اوور میں جسپریت بمراہ نے 6 گیندوں کے اندر صائم ایوب اور پاکستانی کپتان سلمان آغا کو پویلین لوٹا دیا۔


اس کے بعد ہندوستانی اسپنرس نے محاذ سنبھال لیا۔ ایک ایک کر پاکستانی بلے باز پویلین لوٹتے رہے اور پاکستانی کرکٹ شیدائیوں کی امیدیں ختم ہوتی چلی گئیں۔ اکشر پٹیل نے جہاں بابر اعظم کو 5 رنوں پر پویلین بھیج دیا، وہیں تلک ورما نے شاداب خان کا وکٹ لے کر کام کو مزید آسان کر دیا۔ پاکستان کے لیے عثمان خان تنہا ایسے بلے باز ثابت ہوئے، جنھوں نے کچھ حد تک ہندوستانی گیندبازوں کا مقابلہ کیا۔ انھوں نے 34 گیندوں میں 1 چھکا اور 6 چوکوں کی مدد سے 44 رن بنائے۔ پاکستان کے لیے دوسرا بڑا اسکور شاہین شاہ آفریدی نے بنایا، جو 19 گیندوں پر 23 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ شاداب خان نے 14 اور فہیم اشرف نے 10 رنوں کا تعاون کیا۔ بقیہ بلے باز دوہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہو سکے۔ پوری ٹیم 18 اوورس میں محض 114 رن بنا کر سمٹ گئی۔

ہندوستان کی طرف سے گیندبازوں میں ہاردک پانڈیا، جسپریت بمراہ، اکشر پٹیل اور ورون چکرورتی نے 2-2 وکٹ لیے۔ 1-1 وکٹ کلدیپ یادو اور تلک ورما کے حصے میں آئے۔ رنوں سنگھ واحد گیندباز رہے، جنھیں کوئی وکٹ نہیں ملا۔ انھوں نے محض ایک اوور کیے اور 9 رن دیے۔ ایشان کشن کو ان کی شاندار اننگ کے لیے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔