امریکہ ایران کشیدگی: جوہری معاہدے کے علاوہ بات چیت لڑاکا طیاروں اور تیل پر بھی ہوگی

ایرانی سفارتکار حامد غنباری نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تیل اور گیس کے شعبے میں مشترکہ مفادات، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کے درمیان تہران نے جوہری معاہدے کے حوالے سے مثبت رویے کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی سفارت کار نے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے بات چیت کر رہا ہے جو دونوں فریقوں کے لیے اقتصادی طور پر فائدہ مند ہو گا۔ وزارت خارجہ میں اکنامک ڈپلومیسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حامد غنباری نے کہا کہ اس معاہدے کو طویل مدت تک نافذ العمل رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کو ان شعبوں میں بھی فائدہ حاصل ہو جس سے اسے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، غنباری نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تیل اور گیس کے شعبے میں مشترکہ مفادات، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔ اگرچہ ایران کے مصالحانہ موقف سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں قدرے کمی آئی، ایران کے جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے تہران میں اپنی اقتدار میں واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی کال دی۔


ایرانی سفارت کار حامد غنباری کے مطابق تیل اور گیس کے شعبوں میں مشترکہ مفادات، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری دونوں ممالک کے مذاکرات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کے ساتھ 2015 کا جوہری معاہدہ امریکی اقتصادی مفادات کا تحفظ نہیں کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر سمیت ایک امریکی وفد منگل کو جنیوا میں ایرانی حکام سے ملاقات کرے گا۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے نمائندوں نے مذاکرات کے لیے عمان میں ملاقات کی تھی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے امریکا کو شرائط پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن ایران پر سے پابندیاں ہٹانے پر بات کرنے پر آمادہ ہوا تو تہران امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ "اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ انہیں ثابت کرنا ہے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اس میں سنجیدہ ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی طرف بڑھیں گے۔"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔