قومی خبریں

ایودھیا عصمت دری معاملہ: بیکری پر بلڈوزر حکومت نے چلایا، عدالت نے ملزم معید خان کو بری کر دیا

29 جولائی 2024 کو پورقلندر پولیس اسٹیشن میں عصمت دری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔معاملے  میں معید خان کی بیکراور شاپنگ کمپلیکس کو بلڈوز کردیا گیا تھا۔ اب عدالت نے انہیں بری کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

ایودھیا کے بدنام زمانہ اجتماعی عصمت دری معاملے کے حوالے سے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میںسماجوادی رہنما معید خان کے گھر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے اب اس معاملے میں سماجوادی رہنما  معید خان کو بری کر دیا ہے۔ ان کے نوکر راجو ​​کو جمعرات یعنی 29 جنوری کو سزا سنائی جائے گی۔ عدالت نے راجو ​​کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ فی الحال، عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے جیل بھیج دیا ہے۔

Published: undefined

اس معاملے میں فیصلہ پی او سی ایس او یعنی POCSO عدالت سے آیا ہے۔ 29 جولائی 2024 کو پورقلندر پولیس اسٹیشن میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں معید خان کی بیکری اور شاپنگ کمپلیکس کو بلڈوز کردیا گیا تھا۔ اس دوران معید خان اور راجو ​​کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے گئے۔

Published: undefined

معید خان کا ڈی این اے ٹیسٹ منفی آیا جبکہ راجو ​​کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ چنانچہ عدالت نے سماجوادی رہنما کو بری کر دیا۔ عدالت جمعرات کو راجو ​​کو سزا سنائے گی۔ معید خان اور ان کا نوکر راجو ​​جیل میں تھے۔ وہ جیل سے عدالت میں پیش ہوئے۔

Published: undefined

سماج وادی پارٹی کے قومی ترجمان فخر الحسن چاند نے معید خان کی بریت پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "بی جے پی نے سازش کی اور ایک بے قصور شخص کو پھنسایا۔ عدالت نے اسے بری کر دیا۔"

Published: undefined

انہوں نے مزید لکھا، ’’بی جے پی صرف اقلیتوں، پسماندہ طبقات، دلتوں اور برہمنوں کے خلاف سازش کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے لکھا کہ کس طرح سماج وادی پارٹی کو بدنام کیا گیا۔ اتر پردیش میں ہوئے ضمنی انتخابات میں یہ مسئلہ زور سے اٹھایا گیا تھا۔ اس معاملے پر زبردست بحثیں ہوئیں۔ اب کوئی چینل اس پر بحث کرے گا یا نہیں، یا لکھنؤ سے دہلی تک خاموشی ہوگی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined