’نیوکلیائی معاہدہ کرو، ورنہ اگلا حملہ مزید خطرناک ہوگا‘، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو پھر دھمکایا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کی امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ایران نے کسی مذاکرہ کی درخواست کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>خامنہ ای / ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے بیانات کے ذریعہ ایران پر لگاتار دباؤ بنا رہے ہیں۔ آج انھوں نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اپنے نیوکلیائی اسلحوں کے پروگرام سے متعلق فوراً بات کرنی چاہیے، ورنہ امریکہ کا اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگا۔ یہ تبصرہ ٹرمپ نے بدھ کے روز ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ایران کو ایسا معاہدہ کرنا چاہیے، جس میں واضح طور پر نیوکلیائی اسلحہ نہ بنانے کی شرط ہو۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’وقت بہت کم بچا ہے اور حالات سنگین ہیں۔‘‘

امریکی صدر نے یاد دلایا کہ اس سے قبل جب انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا تو اس کے بعد جون کے مہینے میں ایران پر فوجی حملہ ہوا تھا۔ اس یاد دہانی کے بعد انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ اگر ایران نے بات نہیں مانی تو اگلا حملہ اور زیادہ شدید ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ’تروتھ سوشل‘ پر وہ لکھتے ہیں کہ ’’بڑا آرماڈا (جنگی جہازوں کا بیڑا) ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ پوری طاقت، جوش اور عزم کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے، جس کی قیادت عظیم ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ وینزویلا کی طرح ہی یہ بیڑا بھی تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر تیزی اور تشدد کے ساتھ اپنے مشن کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘


ایران کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں نے پہلے بھی ایران سے کہا تھا، معاہدہ کرو۔ انہوں نے معاہدہ نہیں کیا اور جون 2025 میں ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ ہوا، جس نے ایران کو بری طرح تباہ کر دیا۔ اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران میں عوامی مظاہروں کے درمیان ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کرتی ہے تو امریکہ مداخلت کر سکتا ہے۔ تاہم اب ایران میں احتجاج کم ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے ایران پر دباؤ کم نہیں ہونے دیا ہے۔ انھوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران نے اپنا نیوکلیائی پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکہ کارروائی کرے گا۔


دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کی امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ایران نے کسی مذاکرہ کی درخواست کی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور حالات نازک ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔