انکیتا بھنڈاری پہلا ایسا کیس ہے جہاں ملزم نارکو ٹیسٹ کے لیے کہہ رہا، لیکن حکومت مخالفت کر رہی: کانگریس

گودیال نے کہا کہ انکیتا بھنڈاری کیس میں جو پولیس افسر ایس آئی ٹی کی چیف تھیں، وہی سی بی آئی میں بڑے عہدے پر ہیں۔ ایسے میں مذکورہ افسر کا اس زون میں رہنا مناسب نہیں ہے، انھیں وہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔

<div class="paragraphs"><p>اتراکھنڈ کانگریس کے صدر گنیش گودیال پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’انکیتا بھنڈاری پہلا ایسا کیس ہے جہاں ملزم کہہ رہا ہے کہ میرا نارکو ٹیسٹ ہو، لیکن حکومت ہی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس سے بی جے پی حکومت کا خوف ظاہر ہو گیا۔ وہ سمجھ رہی ہے کہ اگر نارکو ٹیسٹ ہوا تو ان کے لیڈران کے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں نے نارکو ٹیسٹ نہیں کروانے دیا۔‘‘ یہ بیان آج اتراکھنڈ کانگریس کے صدر گنیش گودیال نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے دیا۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گودیال نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت ہر قدم پر انکیتا بھنڈاری کیس کو بھٹکانے کا کام کر رہی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد بھی سی بی آئی جانچ کا سچ سامنے نہیں آ پا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اس کیس میں جو پولیس افسر ایس آئی ٹی کی چیف تھیں، وہی سی بی آئی میں بڑے عہدے پر ہیں۔ ایسے میں مذکورہ افسر کا اس زون میں رہنا مناسب نہیں ہے، انھیں وہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔


انکیتا بھنڈاری معاملہ کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے گنیش گودیال نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انکیتا بھنڈاری معاملہ کی دوبارہ جانچ کروا سکتے ہیں، بشرطیکہ انکیتا کے والدین اس معاملے میں اپنی رائے دیں۔ انکیتا بھنڈاری کے والدین نے تو تحریری طور پر اپنا مطالبہ سامنے رکھ دیا ہے۔ انھوں نے انکیتا کے قاتلوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کیس میں جو وی آئی پی شامل ہیں، ان کے لیے بھی سزا یقینی بنانے کی گزارش کی گئی ہے۔ انکیتا کے والدین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جانچ سی بی آئی کے ذریعہ ہو اور اس کی نگرانی کوئی سٹنگ جج کرے۔‘‘

گنیش گودیال کا کہنا ہے کہ ’’انکیتا کے والدین نے جب تحریری طور پر اپنا مطالبہ سامنے رکھ دیا تو وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان بھی کیا کہ انکیتا بھنڈاری کیس کی سی بی آئی جانچ کروائی جائے گی۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جو قابل غور ہے۔ یہ فطری تھا کہ متاثرہ فریق، یعنی انکیتا کے والدین کی درخواست کو بنیاد بنا کر سی بی آئی جانچ کروائی جانی چاہیے تھی، لیکن سی بی آئی جانچ سے پہلے ہی کسی دیگر شخص کے ذریعہ ایف آئی آر درج کرائی گئی، اور پھر اس ایف آئی آر کی بنیاد پر سی بی آئی جانچ کی بات کہی گئی۔‘‘ اس واقعہ پر کانگریس لیڈر نے شبہات ظاہر کیے اور کہا کہ ’’ایک بار پھر یہ اندیشہ پیدا ہو چکا ہے کہ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ میں کچھ تکڑم بھڑا رہے ہیں۔‘‘


پریس کانفرنس میں گنیش گودیال نے ایک کسان کی خودکشی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ کے اودھم سنگھ نگر میں ایک کسان نے خودکشی کی۔ کسان نے کھلے عام بڑے بڑے افسران اور کئی دیگر لوگوں کے نام لیے۔ اس نے کہا کہ ’میرے اور میرے کنبہ کے جسمانی اعضا فروخت کر جو پیسہ اکٹھا ہو، وہ پولیس کو دے دیا جائے، کیونکہ ان میں پیسوں کی بڑی بھوک ہے۔‘ لیکن بے شرمی دیکھیے، وزیر اعلیٰ سر عام ضلع کے ایس ایس پی کو بچا رہے ہیں، جبکہ کسان نے آخری وقت میں اس افسر کا نام لیا تھا۔ ایس ایس پی کو آج تک نہیں ہٹایا گیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میری وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ سے گزارش ہے کہ ان کی اتراکھنڈ حکومت ’ڈیفنکٹ‘ (جس میں کام کرنے کی اہلیت نہیں ہے) ہو چکی ہے، اُدھر توجہ دیجیے اور لوگوں کے ساتھ انصاف کیجیے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔