اجیت پوار کا جانشیں کون ہوگا؟

اجیت دادا کے جانشیں کے طور پر ان کی فیملی میں بیوی سنیتا پوار، بیٹا پارتھ پوار اور جئے پوار کے علاوہ پارٹی کے سینئر اراکین میں پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، چھگن بھجبل، دھننجے منڈے جیسے لیڈران شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اجیت پوار، تصویر ’ایکس‘</p></div>
i
user

نوین کمار

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ این سی پی (اے پی) کے قومی صدر اجیت پوار کا انتقال بدھ کے روز ایک طیارہ حادثہ میں ایسے وقت ہو گیا جب ان کی طرف سے اپنے چچا شرد پوار کی پارٹی این سی پی (ایس پی) کو پھر سے ملانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ گزشتہ دنوں پونے میں بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ لڑتے ہوئے اس کی پیش رفت بھی ہو گئی تھی۔ 5 فروری کو ہونے والے ضلع کونسل اور پنچایت سمیتی کے انتخاب میں بھی اس پیش قدمی کو دہرانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ 28 جنوری کی صبح اسی انتخابی تشہیر کے لیے وہ بارامتی پہنچ رہے تھے، لیکن ان کا طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا۔

مہاراشٹر کی سیاست میں 66 سالہ اجیت پوار ’دادا‘ کے نام سے مشہور تھے۔ اجیت دادا کے اچانک انتقال کے بعد اب ان کے جانشیں کو لے کر میڈیا میں مباحثے شروع ہو گئے ہیں۔ حالانکہ اندیشے یہ بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اجیت گروپ میں بکھراؤ بھی ہو سکتا ہے۔ سیاست میں اجیت دادا کی جو عظیم شخصیت تھی، اس کے مقابلے ان کی پارٹی میں کوئی بھی ’چمتکاری‘ لیڈر نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کے جانشیں کے طور پر کسی ایسے شخص کو سامنے لانا ہوگا جو مرکزی اور ریاستی حکومتوں میں اپنا اثر قائم رکھ سکے۔ ایسا اس لیے کیونکہ اجیت گروپ مرکز میں نریندر مودی اور ریاست میں دیویندر فڑنویس کی حکومت میں شامل ہے۔


بہرحال، اجیت دادا کے جانشیں کے طور پر ان کی فیملی میں بیوی سنیتا پوار، بیٹے پارتھ پوار اور جئے پوار کے علاوہ پارٹی کے سینئر اراکین میں پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، چھگن بھجبل، دھننجے منڈے جیسے لیڈران ہیں۔ سنیتا پوار راجیہ سبھا کی رکن ہیں اور باراماتی میں زمینی سطح پر سماجی کام کر رہی ہیں۔ بیٹے پارتھ سیاست میں متنازعہ ہیں۔ حال میں بھی ان کا نام مبینہ طور پر ایک اراضی تنازعہ میں آیا تھا۔ ماول پارلیمانی حلقہ سے وہ انتخاب ہار گئے تھے۔ بیٹے جئے پوار سیاست سے زیادہ کاروبار میں مصروف ہیں۔ ان تینوں کے پاس اجیت دادا کی طرح کرشمائی طاقت نہیں ہے۔ پارٹی کے اندر پرفل پٹیل نے غیر منقسم این سی پی کی تقسیم میں ایک حکمت عملی ساز کا کردار نبھایا تھا۔ لیکن وہ بھی اجیت دادا کی طرح عوام کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ اس وقت پرفل پٹیل اجیت گروپ میں قومی کارگزار صدر ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اقتدار پر قابض رہنے کے لیے پوار فیملی باہری جانشیں کو پسند کرے گا۔ یہ بات بھی توجہ میں رکھنے والی ہے کہ اجیت گروپ کے 3 اراکین پارلیمنٹ اور 41 اراکین اسمبلی ہیں، جبکہ شرد گروپ کے پاس 8 اراکین پارلیمنٹ اور 10 اراکین اسمبلی ہیں۔

این سی پی کی تقسیم کے باوجود پوار فیملی سیاست سے الگ متحد نظر آ رہا ہے۔ شرد پوار اور اجیت دادا کئی بار فیملی تقاریب میں ایک ساتھ نظر آئے ہیں۔ اب ایک امکان یہ بنتا نظر آ رہا ہے کہ اگر شرد گروپ اور اجیت گروپ ایک ہو جاتے ہیں تو ایسے میں شرد پوار کے علاوہ ان کی رکن پارلیمنٹ بیٹی سپریا سولے کو ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ ان کے پاس سیاسی تجربہ ہے اور وہ اجیت دادا کی کئی باتوں سے متفق رہی ہیں۔ لیکن اس میں سب سے بڑا رخنہ یہ ہے کہ اگر دونوں گروپ متحد ہو جاتا ہے تو اجیت گروپ کو مرکزی و ریاستی حکومتوں سے باہر ہونا پڑ سکتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ شرد پوار کہہ چکے ہیں کہ ان کے جیتے جی این سی پی مودی حکومت اور مہایوتی میں شامل نہیں ہوگی۔ ایسے میں اجیت گروپ میں انتشار پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ اجیت گروپ کے بیشتر لیڈران مودی کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ اجیت گروپ کے لیڈران نے پہلے بھی اس کے لیے شرد پوار پر دباؤ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اب تو این ڈی اے کا حصہ بنیں یا نہ بنیں، اس بارے میں شرد پوار کے فیصلے پر سب کی نظر رہے گی۔ ویسے اجیت دادا بھی ہندوتوا کی سیاست پسند نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں جا کر اپنی پیشانی نہیں جھکائی تھی۔ اس سے یہ بھی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ اجیت دادا مہایوتی سے باہر ہونے والے ہیں۔


فڑنویس حکومت میں اجیت دادا وزیر مالیات بھی تھے۔ اگلے ماہ مہاراشٹر مقننہ کا بجٹ اجلاس ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اجیت گروپ سے وزیر مالیات کون بنے گا۔ حالانکہ ابھی بحران کا وقت ہے، ایسے میں فڑنویس خود بھی بجٹ پیش کر سکتے ہیں۔ وہ پہلے بھی ریاست کا بجٹ پیش کر چکے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔