
سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی، تصویر/آئی اے این ایس
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں گزشتہ سالوں کی دیوالی کی یادیں تازہ کی ہیں۔ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے لکھا کہ ’’دیوالی منانے کی اپنی ابتدائی یادیں تازہ کر رہی ہوں۔ روایات، تقریبات اور وہ چھوٹے چھوٹے لمحات، جنہوں نے اس تہوار کو اتنا خاص بنایا۔‘‘
ویڈیو میں سونیا گاندھی اپنی بیٹی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ گفتگو کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس دوران دونوں خاندان کی جانب سے منائے جانے والے اس تہوار کی یادیں تازہ کر رہی ہیں۔ پرینکا کی بیٹی مِرایا واڈرا بھی ویڈیو میں نظر آ رہی ہیں۔ سونیا گاندھی نے یاد کیا کہ دیوالی ہمیشہ ایک خاص موقع ہوتا تھا، جب گھر کے تقریباً ہر کونے میں دیے جگمگاتے تھے۔ یہ دیے تالاب کے اطراف، برآمدے اور راستوں پر رکھے جاتے تھے۔ گھر کے داخلی دروازے پر بھگوان گنیش کی مورتی نصب ہوتی تھی، جہاں خاندان کا ہر فرد سب سے پہلے دیا جلاتا تھا۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ان دنوں ہمارے یہاں ہر جگہ وہ چھوٹی چھوٹی لائٹیں نہیں ہوتی تھیں، لیکن ہر طرف دیے ضرور ہوتے تھے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے بھی بتایا کہ کس طرح مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ دیوالی کے دوران گھر آتے تھے اور باغ میں جمع ہوتے تھے۔ بات چیت جلد ہی پٹاخوں تک پہنچ گئی۔ سونیا کو یاد آیا کہ وہ دیوالی کے لیے پٹاخے اور پھل جھڑیاں خریدنے چاندنی چوک اور پرانی دہلی جایا کرتی تھیں۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ انہیں پھل جھڑیاں بہت پسند تھیں، لیکن انار جیسے پٹاخے اتنے پسند نہیں تھے۔ سونیا گاندھی نے ان برسوں میں دیوالی کے موسم کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان دنوں آسمان صاف اور نیلا ہوتا تھا، جو آج کل شاید ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ کھانا بھی خاندان کی دیوالی کی روایات کا ایک اہم حصہ تھا۔ سونیا گاندھی کو یاد آیا کہ تہوار کے دوران کشمیری پکوان پیش کیے جاتے تھے، خاص طور پر میٹھے چاول، جو آج بھی خاندان کے افراد کو بے حد پسند ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔