بی جے پی جس انداز میں حلقہ بندیاں کرنا چاہتی ہے، وہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے: اشوک گہلوت

گہلوت نے کہا کہ راجستھان میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کی حلقہ بندیوں میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور بی جے پی کا مجوزہ قومی حلقہ بندی عمل جمہوریت اور اپوزیشن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>اشوک گہلوت / آئی اے این ایس</p></div>
i

جودھپور: راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ بی جے پی جس طریقے سے حلقہ بندیاں کرنا چاہتی ہے، وہ ملک کی جمہوری نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس عمل پر حکمراں جماعت کی اجارہ داری ہوگئی تو جمہوریت متاثر ہوگی اور اپوزیشن کا کردار بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گہلوت نے ریاست کے عوام کو دیوالی کی مبارک باد دی اور ان کے لیے خوش حالی، ترقی اور مسرت کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں مختلف ذاتوں اور طبقات کے لوگوں میں محبت اور بھائی چارے کی روایت رہی ہے۔ یہی ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسے برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔

پنچایتی انتخابات کے بارے میں سوال پر گہلوت نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ میونسپل کارپوریشن، بلدیہ اور میونسپل کونسل کے انتخابات میں حلقہ بندیوں کے معاملے پر بے ایمانی کی گئی اور پولیس کا غلط استعمال ہوا۔ انہوں نے اس عمل کو جمہوریت کا قتل قرار دیا اور کہا کہ پنچایتی راج انتخابات میں بھی اسی طرح حلقہ بندیاں کی گئی ہیں، جو جمہوری روایات کے منافی ہے۔

گہلوت نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے عوام کو خود غور کرنا ہوگا کہ کون درست اور کون غلط ہے۔ اگر اپوزیشن غلطی کرے تو اسے جواب دہ ٹھہرایا جائے، اور اگر حکومت غلط ہو تو اس کے خلاف بھی آواز اٹھائی جائے۔ ان کے بقول، ایسا نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔


لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں کی حلقہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کا قانون بن چکا ہے اور کانگریس چاہتی ہے کہ اسے جلد نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی بھی مسلسل اس مطالبے کو اٹھا رہے ہیں۔

گہلوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپوزیشن کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات جیتنے کے بعد اپوزیشن ارکانِ اسمبلی کو توڑ کر قائدِ حزبِ اختلاف بنانے کی صورت حال جمہوریت پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق حکمراں جماعت چاہتی ہے کہ کانگریس سمیت پوری اپوزیشن کمزور ہو اور اپوزیشن کا کردار بھی اسی کے قابو میں رہے۔

ایس آئی آر کے خلاف احتجاج پر گہلوت نے کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد جمہوریت کے تحفظ کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے احتجاجی مظاہروں میں نظم و ضبط رہا اور کہیں تشدد نہیں ہوا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے وزرا اور وزرائے اعلیٰ کے سڑکوں پر احتجاج سے ٹریفک متاثر اور عوام و تاجروں کو پریشانی ہو رہی ہے۔ گہلوت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جمہوری اقدار کے تحفظ کی ذمہ داری سمجھیں اور ان کے لیے آواز اٹھائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔