زندگی کی اصل کامیابی کا راز…ایف اے مجیب

آخرکار کامیابی کا اصل سوال دولت، شہرت، اقتدار یا دنیاوی آسائشوں کی مقدار کا نہیں، بلکہ زندگی کے درست مقصد اور اس کے صحیح انجام کا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

انسانی تاریخ میں کامیابی کے معیار بدلتے رہے ہیں۔ کبھی طاقت کو کامیابی سمجھا گیا، کبھی دولت، کبھی اقتدار اور کبھی شہرت کو۔ آج بھی دنیا کا ایک بڑا طبقہ بہتر معیارِ زندگی، معاشی خوش حالی، بلند عہدے اور مادی آسائشوں کو کامیابی کا پیمانہ سمجھتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب انسانی زندگی کی اہم ضرورتیں اور ترقی کے مظاہر ہیں، لیکن کیا ان کے حصول کو زندگی کی مکمل کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک ایسا انسان جس نے بے پناہ دولت حاصل کر لی ہو، مگر اپنے کردار، خاندان، معاشرے اور انسانی ذمہ داریوں کے معاملے میں ناکام ہو، واقعی کامیاب کہلانے کا مستحق ہے؟ اور اگر کوئی شخص اچھا انسان تو ہو، لیکن اسے اپنے وجود، زندگی کے مقصد اور آخری انجام کا شعور ہی نہ ہو تو کیا اس کی کامیابی مکمل ہو سکتی ہے؟ درحقیقت کامیابی کا سوال صرف یہ نہیں کہ انسان نے کیا حاصل کیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس نے زندگی کس مقصد کے لیے اور کن اصولوں کے تحت گزاری۔

کسی بھی چیز کی حقیقی افادیت کو سمجھنے کے لیے اس کی ساخت، ضرورت اور مقصد کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک مشین بنانے والا اس کے استعمال کے اصول اس لیے بہتر جانتا ہے کہ وہ اس کی ساخت اور صلاحیتوں سے واقف ہوتا ہے۔ اسی طرح جس ہستی نے کائنات کو وجود بخشا، انسان کو پیدا کیا اور اس کے اندر بے شمار صلاحیتیں ودیعت کیں، اس سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ انسان کے لیے کون سا طرزِ زندگی بہتر اور اس کی فطرت کے عین مطابق ہے؟ کائنات کا خالق ہی اس کے نظام، اس کے قوانین، اس کے مکینوں کی ضروریات اور ان کے باہمی تعلقات کا مکمل علم رکھتا ہے۔ انسان کا علم خواہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، وہ زمانے، تجربات، مشاہدات اور دستیاب وسائل کی حدود میں رہتا ہے۔ وہ ماضی کے تمام حقائق سے واقف ہے نہ مستقبل کے تمام حالات سے۔ اس کے برعکس خالق کا علم ان تمام حدود سے ماورا ہے۔ اس لیے یہ بات عقل کے خلاف نہیں بلکہ عقل کا تقاضا معلوم ہوتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے بنیادی اصولوں اور مقصد کے تعین میں اپنے خالق کی رہنمائی کو اہمیت دے۔

انسان کی ایک بڑی خصوصیت اس کا باشعور اور صاحبِ اختیار ہونا ہے، لیکن یہی اختیار اس کے لیے آزمائش بھی ہے۔ اس کے اندر خیر اور شر، محبت اور نفرت، ایثار اور خود غرضی، انصاف اور ظلم، تعمیر اور تخریب دونوں کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کی عقل اسے بہت سے درست فیصلوں تک پہنچا سکتی ہے، لیکن خواہشات، ذاتی مفادات، تعصبات، جذبات اور وقتی ضروریات بعض اوقات اسی عقل کو غلط راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علم و ترقی کے باوجود انسان نے جنگوں، استحصال، غلامی، نسلی امتیاز، معاشی ناانصافی اور تباہی کے بے شمار طریقے ایجاد کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم اور ترقی بذاتِ خود انسان کو مکمل طور پر درست کردار کی ضمانت نہیں دیتے۔ انسان کو صرف یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ وہ کیا کر سکتا ہے، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کن حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔


یہیں خدائی رہنمائی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی خواہش، ذاتی مفاد اور محدود فہم کے مطابق اچھائی اور برائی کا معیار مقرر کرنے لگے تو ایک ایسا متفقہ اور مستقل نظام کیسے قائم ہو سکتا ہے جو تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہو؟ ایک شخص کا فائدہ دوسرے کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے، ایک معاشرے کی خوش حالی دوسرے معاشرے کے استحصال پر قائم ہو سکتی ہے اور ایک نسل کی آسائش آنے والی نسلوں کے وسائل کو ختم کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسانی زندگی کے بنیادی اخلاقی اور عملی اصول کسی ایسے اعلیٰ معیار سے حاصل ہوں جو کسی فرد، طبقے، قوم یا زمانے کے مفادات کا پابند نہ ہو۔ خدائے واحد کی ہدایات اسی ضرورت کو پورا کرتی ہیں، کیونکہ ان کا سرچشمہ وہ ہستی ہے جو تمام انسانوں، تمام مخلوقات اور ان کے باہمی حقوق و ضروریات کا مکمل علم رکھتی ہے۔

کائنات کا نظام بھی ہمیں باہمی انحصار اور توازن کا سبق دیتا ہے۔ زمین، پانی، ہوا، نباتات، حیوانات اور انسان ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ کسی ایک نظام میں پیدا ہونے والا بگاڑ دوسرے نظاموں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انسانی زندگی بھی اسی اصول کے تحت قائم ہے۔ کوئی فرد تنہا خوش حال نہیں رہ سکتا، اگر اس کے گرد ناانصافی، بدامنی، نفرت اور محرومی پھیلی ہوئی ہو۔ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں انسان اپنی ذات کے ساتھ دوسروں کی بھلائی، اپنے معاشرے کے ساتھ پوری انسانیت اور موجودہ نسل کے ساتھ آنے والی نسلوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔ ایک ایسا نظامِ زندگی جو انسان کو صرف اپنے مفاد کا نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق، کمزوروں کی ضرورت، جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور قدرتی وسائل کی حفاظت کا شعور دے، وہی اجتماعی فلاح کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔


دنیا کے مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں سچائی، دیانت، رحم، انصاف، خدمتِ خلق اور برائی سے اجتناب جیسی تعلیمات کا پایا جانا بھی قابلِ غور ہے۔ ان اصولوں کی اہمیت کسی ایک قوم یا معاشرے تک محدود نہیں۔ اس مماثلت کو انسانی فطرت کا تقاضا بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ انسانی فطرت میں یہ اخلاقی شعور کہاں سے آیا؟ اسلامی تصور اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ انسان کو پیدا کرنے والی ہستی نے اس کی فطرت میں خیر و شر کی تمیز کا بنیادی شعور بھی رکھا اور اس کی رہنمائی کے لیے مختلف زمانوں اور قوموں میں انبیاء بھیجے۔ ان سب کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا: اپنے خالق کو پہچانو، اسی کی بندگی کرو، نیکی اختیار کرو، ظلم سے بچو اور اپنی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالو۔ اس تصور کے مطابق دینِ حق کسی ایک قوم یا دور کی پیداوار نہیں، بلکہ ابتدا ہی سے تمام انسانیت کی رہنمائی کے لیے ایک خدائی پیغام رہا ہے، جس کی تکمیل آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہوئی۔

اس تناظر میں اسلام کو صرف چند مذہبی رسومات یا انفرادی عبادات تک محدود کرکے دیکھنا اس کے مکمل تصورِ زندگی کو سمجھنے میں رکاوٹ ہے۔ اس کی رہنمائی انسان کے خالق سے تعلق کے ساتھ اس کے اخلاق، کردار، خاندان، معاشرت، معیشت، انسانی حقوق، عدل و انصاف اور اجتماعی ذمہ داریوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ انسان کو دنیا سے فرار کا نہیں بلکہ دنیا میں ذمہ داری کے ساتھ جینے کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہاں عبادت اور خدمت، روحانیت اور عمل، انفرادی اصلاح اور اجتماعی فلاح ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے، علم حاصل کرے، محنت کرے، ترقی کرے، وسائل پیدا کرے اور دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، لیکن ان تمام سرگرمیوں کو خدائی ہدایات اور اخلاقی حدود کے تابع رکھے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ خدائی رہنمائی پر اعتماد کرنے کا مطلب انسانی عقل، تحقیق، سائنس اور تجربے کو ترک کرنا نہیں ہے۔ عقل انسان کو حقائق تک پہنچنے، کائنات کے قوانین سمجھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ لیکن عقل کا درست استعمال بھی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی خواہشات اور مفادات کو حق و انصاف سے بلند نہ ہونے دے۔ خدائی ہدایت عقل کی مخالف نہیں بلکہ اسے ایک ایسا مستقل اخلاقی اور مقصدی معیار فراہم کرتی ہے جس سے انسانی علم و صلاحیتیں تعمیر، اصلاح اور فلاح کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔


آخرکار کامیابی کا اصل سوال دولت، شہرت، اقتدار یا دنیاوی آسائشوں کی مقدار کا نہیں، بلکہ زندگی کے درست مقصد اور اس کے صحیح انجام کا ہے۔ اگر انسان نے دنیا تو حاصل کر لی، مگر اپنے خالق کو پہچاننے، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے اور اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنے میں ناکام رہا تو اس کی کامیابی نامکمل ہے۔ اور اگر اس نے اپنی زندگی کو خالق کی رہنمائی، اچھے کردار، عدل، خدمت اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کیا تو اس کی کامیابی دنیاوی حدود سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ اسلام اسی دنیاوی و اخروی فلاح کو حقیقی کامیابی قرار دیتا ہے۔ اس اعتبار سے زندگی کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان اپنی مرضی کے مطابق کتنا کچھ حاصل کر لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی مرضی کے مطابق زندگی گزار کر اپنے وجود کو کس قدر بامقصد، مفید اور جواب دہ بناتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔