ایران جنگ کے اثرات: امریکی سیاست کا نقشہ بدل گیا
واشنگٹن کی اندرونی سیاست اور عوامی ردعمل کا رخ موڑنے والے اس بحران کے حیران کن اور غیر متوقع نتائج کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہےکہ ایران کے خلاف جنگ خود امریکہ کے لیے ایک معاشی بم دھماکہ ثابت ہوئی ہے

ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ میں مہنگائی، معاشی مشکلات اور آئینی بحران پیدا کیا۔ عوامی ناراضگی نے وسط مدتی انتخابات میںحکمراں ریپبلکن پارٹی کو شکست اور ڈیموکریٹس کو تاریخی کامیابی دلائی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کی جانے والی ناکام جنگ کے نتیجے میں امریکی سیاسی منظر نامے میں ایک تاریخی تبدیلی رونما ہوئی ہے، جہاں ڈیموکریٹس کو وسط مدتی انتخابات میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ ایرانی جوابی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث امریکیوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ اس مہم جوئی نے واشنگٹن کی عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے زیر اثر امریکی خارجہ پالیسی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ عام شہریوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں، آئینی اصولوں کی خلاف ورزی اور بے مقصد جنگوں سے تنگ آ کر ریپبلکن پارٹی کو مسترد کر دیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف گھریلو معاشی خدشات کو اجاگر کیا بلکہ امریکی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی اور اسرائیلی تعلقات پر نظرثانی کرنے پر بھیمجبور کر دیا ہے۔
ہزاروں میل دور مغربی ایشیا میں لیا جانے والا ایک فوجی فیصلہ کس طرح خود امریکہ کے اندر عام شہریوں کی معاشی اور سیاسی زندگی میں زلزلہ برپا کر سکتا ہے؟ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بنیادی تزویراتی ہدف ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا اور اسے امریکہ و اسرائیل کی ایک تابع ریاست بنانا تھا۔ تاہم، اس فوجی مہم جوئی نے الٹا خود امریکہ کے اندر ایک غیر متوقع معاشی، آئینی اور سیاسی تباہی کو جنم دیا۔ تہران کو زیر کرنے کی اس ناکام کوشش کے نتیجے میں امریکی تاریخ کا ایک ڈرامائی ترین سیاسی الٹ پھیر رونما ہوا، جہاں ووٹروں نے ریپبلکن پارٹی کو مسترد کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو امریکی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں — سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان — پر اگلے دو سالوں کے لیے کامل کنٹرول دلا دیا۔
بحران کے غیر متوقع نتائج
واشنگٹن کی اندرونی سیاست اور عوامی ردعمل کا رخ موڑنے والے اس جیو پولیٹیکل بحران کے حیران کن، غیر متوقع اور اثر انگیز نتائج کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہےکہ ایران کے خلاف جنگ خود امریکہ کے لیے ایک معاشی بم دھماکہ ثابت ہوئی ہے۔ ایران نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ایسی جوابی حکمتِ عملی اپنائی جس نے جنگ کے دردناک اور بھاری معاشی اخراجات کو سیدھا امریکی گھروں اور باورچی خانوں تک پہنچا دیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر سخت پابندیاں عائد کرکے ایران نے امریکیوں کی روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اس بندش کے باعث امریکیوں کے گھریلو راشن، پٹرول، ڈیزل، سفری اخراجات اور درآمدات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا۔
اسی معاشی دباؤ نے ووٹروں کو شدید اشتعال دلایا، جس کی تصدیق الیکشن کے اعداد و شمار بھی کرتے ہیں:تقریباً 90 فیصد رائے دہندگان نے صراحت کی کہ "زندگی گزارنے کے اخراجات" (کوسٹ آف لیوِنگ) ان کے لیے ووٹ ڈالنے کا سب سے اہم اور فیصلہ کن عنصر تھا۔
واشنگٹن شرمندگی سے دوچار
بیروت کی امریکن یونیورسٹی کے ممتاز فیلو اور 'عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی' کے نان ریزیڈنٹ سینئر فیلو رامی جی خوری کا تجزیہ واشنگٹن کی اس تزویراتی ناکامی کو بہترین انداز میں بیان کرتا ہے۔ رامی جی خوری کے مطابق، امریکی صدر کا یہ خیال غلط تھا کہ جنگ ایران کو مکمل طور پر زیر کر لے گی اور اسے امریکہ اور اسرائیل کا ایک تابع ریاست بنا دے گی۔ ایران نہ صرف قائم رہا، بلکہ اس نے امریکہ، اسرائیل اور عرب علاقوں پر جوابی حملے کیے اور جنگ کے تکلیف دہ معاشی نتائج کو ہر امریکی گھر تک پہنچا دیا۔ علاوہ ازیں، ایران نے یہ ظاہر کر کے واشنگٹن کو شرمندگی سے دوچار کیا کہ امریکی عسکری طاقت بھی — بالکل ٹرمپ کے رویے اور انتخابی وعدوں کی طرح — غیر مستقل مزاج اور بدترین صورت میں غیر مؤثر ہے۔
امریکی فوجی طاقت کا بھرم ٹوٹ گیا
امریکہ اور اسرائیل نے مہینوں تک ایران کے سیاسی رہنماؤں، بنیادی ڈھانچے، شہری و اقتصادی مقامات اور فوجی تنصیبات پر مسلسل بمباری کی، لیکن اس کے باوجود ایران کو تسلیمِ رضا خم کرنے پر مجبور نہ کیا جا سکا۔ اس کے برعکس، ایران کے جوابی حملوں نے جزیرہ نما عرب اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو ناکارہ یا خالی کرنے پر مجبور کر دیا، نیز عرب توانائی اور ٹرانسپورٹ کے تمام تر نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے ان ڈھانچوں کی بربادی نے عالمی سطح پر سپلائی چین کو باقاعدہ معطل کر دیا، جس سے عالمی اور امریکی مارکیٹ میں قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں۔
عسکری ناکامی کے ساتھ ساتھ، ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکہ کے اندر سنگین آئینی بحران اور غصے کو جنم دیا:
آئینی تقاضوں کی پامالی:صدر ٹرمپ نے جنگ کا آغاز کرتے وقت کانگریس سے اجازت لینے کے لازم آئینی تقاضے کو یکسر مسترد کر دیا اور عوام کی جنگ مخالف رائے کو نظر انداز کیا۔ قانون کی حکمرانی اور آئینی حقوق کو سنجیدگی سے لینے والے امریکی شہریوں کے لیے یہ اقدام شدید اشتعال کا باعث بنا۔
دوسرے ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدوں کی خلاف ورزی کی۔ ووٹروں نے ریپبلکنز کو اس لیے بھی سخت سزا دی کیونکہ ٹرمپ نے 2024 کے انتخاب میں وعدہ کیا تھا کہ وہ 'بیکار غیر ملکی جنگیں' ختم کریں گے۔ اس کے برعکس، وہ بغیر کسی واضح اسٹریٹجک ہدف کے ایران پر حملے میں کود پڑے۔حملے کا بنیادی جواز یہ گھڑا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جبکہ امریکی و بین الاقوامی انٹیلی جنس جائزوں اور معائنہ کاروں نے بار بار تصدیق کی تھی کہ ایسے کسی اقدام کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
جب ووٹروں پر یہ عیاں ہوا کہ اسرائیل نے اپنی لابنگ کے ذریعے امریکہ کو اس مہم جوئی میں دھکیلا ہے، تو امریکیوں نے اس بات پر شدید ذلت اور غصہ محسوس کیا کہ ان کی عظیم عسکری طاقت ناکام رہی اور اسرائیل جیسا ایک چھوٹا، منحصر ملک واشنگٹن کو ایک ایسی آفت میں گھسیٹ سکتا ہے جس سے امریکی گھرانوں کی معیشت اور ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
امریکی سیاست میں ڈرامائی الٹ پھیر
عوام کے اسی معاشی غصے، عسکری ناکامی اور آئینی ناراضگی کے نتیجے میں امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو تاریخی شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیموکریٹس نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے امریکی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں — سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان — پر مکمل سیاسی کنٹرول حاصل کر لیا۔سی بی ایس کے ایگزٹ پولز نے اس بات کی تصدیق کی کہ ووٹروں کی جانب سے اس جنگ اور ریپبلکنز کو مسترد کرنے کی دو بنیادی وجوہات تھیں: بیکار عسکریت پسندی اور معیشت پر جنگ کے منفی اثرات۔
امریکی-اسرائیلی تعلقات پر نظرِ ثانی
اس تنازع کے نتیجے میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے حوالے سے اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر ایک غیر معمولی، تاریخی اور فکری تبدیلی دیکھی گئی۔ انتخابات کے اگلے ہی دن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر اپنی پارٹی کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا " ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے"۔ وینس نے حکومت کے خلاف ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کے جن 4 اہم مطالبات کی نشاندہی کی، ان میں جنگ ختم کرنا، زندگی گزارنے کے اخراجات اور مہنگائی پر توجہ دینا، "امریکہ فرسٹ" (امریکہ کو اولیت) اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو تبدیل کرنا شامل ہیں۔
ایک ایسے سیاسی نظام میں جس نے تقریباً ایک صدی سے مغربی ایشیا میں اپنی پالیسیوں کو ضمیر کے بجائے اسرائیلی مطالبات کے تابع کر رکھا تھا، وینس کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی تبدیلی کا واضح ذکر کرنا انتہائی حیران کن تھا۔ یہ پیشرفت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ فلسطین میں کی جانے والی نسل کشی اور اس میں امریکی ملی بھگت کے خلاف ابھرنے والے جذبات کتنا گہرا اثر رکھتے ہیں۔ یہی نسل کشی کا موضوع بہت سے ترقی پسند ڈیموکریٹس کی انتخابی مہمات اور خطے میں جنگ و امن کے حوالے سے ایرانی نقطہ نظر میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔
جانبدارانہ میڈیا اور ووٹروں کا غصہ
امریکہ میں اندرونی عدم اطمینان صرف خارجہ پالیسی یا جنگی اخراجات تک محدود نہ تھا، بلکہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی زیادہ تر امریکیوں میں شدید غصہ، مایوسی اور بے بسی کے جذبات پائے جاتے تھے۔ ووٹروں نے محسوس کیا کہ ان کی بنیادی اقدار — جیسے جمہوریت، مساوات اور قانون کی حکمرانی — اب محض کھوکھلے الفاظ بن کر رہ گئی ہیں۔ خاص طور پر ڈیموکریٹک ووٹر بیس کے اندر جن مسائل پر شدید غصہ موجود تھا ان میں بدعنوانی اور سرمایہ دارانہ ناانصافی؛ٹیکنالوجی اور عسکری شعبے پر ضابطے کا فقدان؛تارکینِ وطن پر پولیس کا تشدد اور کارپوریٹ میڈیا کا جانبدارانہ کردار شامل ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کارپوریٹ میڈیا ادارے عوام کو سچائی اور درست حقائق بتانے کے بجائے طاقتور طبقوں اور اسرائیلی مفادات کی ترجمانی کو ترجیح دے رہے تھے۔
ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل جنگ سے برآمد ہونے والے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب کسی ملک کی خارجہ پالیسی اخلاقی بنیادوں، آئینی پاسداری اور بنیادی معاشی منطق سے محروم ہو جاتی ہے، تو اس کا خمیازہ بالآخر اندرونی سیاسی اور معاشی نظام کے نیچے گرنے کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس جنگ نے یہ سچائی واضح کر دی کہ عالمی تسلط کے ادعائے باطل اور بے لگام عسکریت پسندی کو اب امریکی عوام کے باورچی خانے اور ان کے جمہوری حقوق کی قیمت پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کا یہ تاریخی فیصلہ امریکی خارجہ پالیسی اور عالمی مداخلت پسندی میں ایک مستقل اور اصولی تبدیلی کی بنیاد رکھے گا، یا یہ محض عارضی معاشی تنگی اور مہنگائی کے خلاف عوامی غصے کا ایک وقتی ردعمل ثابت ہوگا۔ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
