
شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے مجوزہ حد بندی عمل پر شدید اعتراض کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر ملک کا سیاسی توازن بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے پورے ملک کا سیاسی نقشہ متاثر ہو سکتا ہے۔ راؤت نے کہا کہ لوک سبھا کی سیٹوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 850 کرنے اور ریاستوں کو 815 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 35 سیٹیں مختص کرنے کی تجویز کے پیچھے حکومت کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صرف خواتین کو بااختیار بنانے تک محدود نہیں ہے بلکہ وسیع تر سیاسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے جنوبی ہند کی ریاستوں میں ممکنہ عدم اطمینان سے بھی خبردار کیا۔ راؤت کے مطابق ان جنوبی ریاستوں نے مرکزی حکومت کو جو اشارے دیئے ہیں، اس سے مستقبل میں وہاں عدم استحکام کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے پر انہوں این چندرابابو نائیڈو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرعزت نفس باقی بچی ہے تو اس طرح کی حد بندی کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو تاریخی قرار دینے کا دعویٰ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ملک پہلے ہی اندرا گاندھی کے وزیر اعظم بننے اور پرتیبھا پاٹل کے صدر بننے جیسے تاریخی لمحات کا مشاہدہ کر چکا ہے۔
Published: undefined
اپوزیشن کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ اس بل کو لے کر جلد بازی دکھانے کی بجائے تمام پارٹیوں کی میٹنگ بلائی جائے اور اس پر تفصیلی بحث کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) بنائی جائے۔ دریں اثنا شیوسینا لیڈر نے عام آدمی پارٹی کے لیڈر اشوک کمار متل کے گھر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپے ماری پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے بھی اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کے موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کو حد بندی سے جوڑ کر گمراہ کررہی ہے اور اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ تیواری نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کا خیال پہلے ہی 2013 میں سامنے آچکا تھا اور راجیو گاندھی نے پنچایت اور میونسپل اداروں میں ریزرویشن کو نافذ کرکے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے حکومت پر سیاسی فائدے کے لیے اس معاملے کو آگے بڑھانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایک جامع پارلیمانی بحث ضروری ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined