
راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس اوجی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اوایم آر فراڈ معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ (آرایس ایس بی) کا تکنیکل ہیڈ بھی شامل ہے۔ جن امتحانات میں شبہ تھا ان میں سپروائزر (ویمن ایمپاورمنٹ) ڈائریکٹ ریکروٹمنٹ امتحان-2018، لیب اسسٹنٹ بھرتی امتحان-2018، اور ایگریکلچر سپروائزر بھرتی امتحان-2018 شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ملزم پونم ماتھر کو تقریباً 63 نمبر ملنے چاہئے تھے لیکن اس دھوکہ دہی کے ذریعے ان کے نتیجے میں 182 نمبر دکھائے گئے۔ اسی طرح دیگر امیدواروں کے اصل اسکور جو 30 سے 50 نمبروں کے درمیان تھے، انہیں بڑھا کر185 سے زیادہ کردیا گیا۔ تین الگ الگ امتحانات میں شامل ہوئے کم از کم 38 امیدواروں کے نمبروں کو تبدیل کرنے میں ملوث تھے۔
Published: undefined
راجستھان، جے پور کے اسپیشل آپریشنس گروپ(ایس او جی) کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس وشال بنسل نے بتایا کہ ایس او جی نے راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ کی جانب سے منعقد سپروائزر (ویمن امپاورمنٹ) ڈائریکٹ بھرتی امتحان-2018 ، لیب اسسٹنٹ بھرتی امتحان 2018 اور ایگریکلچرسپروائزر بھرتی امتحان۔ 2018 میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور نتائج میں ہیرا پھیری کے سنگین نمعاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ (آرایس ایس بی) کے دو ارکان مبینہ طور پر 3 الگ الگ امتحانات میں شامل ہوئے کم سے کم 38 امیدواروں کے نمبروں کو تبدیل کرنے میں ملوث تھے۔ گرفتار کیے گئے 5 میں سے دو اس فرم سے ہیں جو امتحان کی اوایم آر شیٹ کی اسکیننگ سے متعلق کام میں شامل تھی۔
Published: undefined
ایس او جی کے مطابق اوایم آر شیٹ اسکین کرنے اور امتحان کے نتائج تیارکرنے کے لیے ڈیٹا پروسیسنگ کا کام آوٌٹ سورس فرم، راگھو لمیٹڈ، نئی دہلی کو دیا گیا تھا۔ جانچ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اوایم آر شیٹ اسکین کرنے کے بعد فرم کے ملازمین نے کمپیوٹر سسٹم میں اصل ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور منتخب امیدواروں کے نمبر دھوکہ دہی سے بڑھا دیئے جس سے نا اہل امیدواروں کا انتخاب یقینی ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق 2019 میں ہوئے ان 3 بھرتی امتحانات میں 3212 عہدوں کے لئے 940038 امیدواروں نے درخواست دی تھی۔
Published: undefined
راجستھان پولیس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب بورڈ نے اصل اوایم آر شیٹ کو دوبارہ اسکین کیا تو امتحان کے نتائج میں سنگین تضادات کا پتہ چلا۔ تفصیلی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ میں تعینات اس وقت سسٹم اینالسٹ-کم-پروگرامر (ڈپٹی ڈائریکٹر) اور ٹیکنیکل ہیڈ سنجے ماتھر، پوری اوایم آر اسکیننگ اور نتائج تیار کرنے کے عمل کے انچارج تھے، اس مجرمانہ سازش میں سرگرم طور سے شامل تھے۔ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور اسکیننگ ٹیم اور آؤٹ سورس فرم کے ملازمین کے ساتھ مل کر اپنے جاننے والے امیدواروں کو ناجائزہ فائدہ پہنچایا۔
Published: undefined