مغربی ایشیا میں کشیدگی کا اثر! سونے کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ، چاندی کی چمک بھی پڑی پھیکی

مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کا ماحول ہے۔ اس لیے وہ طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کی خواہش رکھنے والے لوگوں کو جلد بازی میں فیصلے نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سونے چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 صرافہ بازار میں جمعرات کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاروں کو بڑا جھٹکا اورخریداروں کو خوش ہونے کا موقع مل گیا۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر سونے کی قیمت تقریباً1,000 روپئے کم ہوکر 1,52,049 فی 10 گرام پر آ گئی۔ وہیں چاندی کی قیمت میں اور بھی بڑی کمی درج کی گئی اور یہ 4,300 روپئے کم ہو کر 2,43,907 روپئے فی کلوگرام پر پہنچ گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سونا اب اپنی اب تک کی بلند ترین قیمت سے تقریباً 28,000 روپئے سستا ہوچکا ہے۔ گزشتہ 29 جنوری کو سونے کی قیمتی 1,80,000 روپے فی 10 گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد سے مسلسل اتار چڑھاؤ کے درمیان قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ تاجروں کی جانب سے منافع وصولی(پرافٹ بکنگ) اور فزیکل طلب میں کمی ہے۔ جب قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کار منافع نکالنے لگتے ہیں جس سے قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں خریداروں کی کمی بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی اشیا دباؤ کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر سونا تقریباً 0.87 فیصد گر کر 4,853 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا جبکہ چاندی 2.38 فیصد گر کر 75.74 ڈالر فی اونس پر کاروبار کررہی ہے۔ اس کا براہ راست اثر ہندوستانی بازار پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔


مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کا ماحول ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگ اور شرح سود کے بارے میں قیاس آرائیاں مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی اونچی قیمتیں بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت ماہرین سرمایہ کاروں کو جلد بازی میں فیصلے نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ گراوٹ ایک موقع بھی بن سکتی ہے حالانکہ مارکیٹ کی سمت واضح ہونے تک احتیاط برتنا ضروری ہے۔