’ایران سے خطرہ نہیں، اسرائیل کے دباؤ میں ہیں ٹرمپ!‘ جنگ کے خلاف استعفیٰ دینے والے جو کینٹ کا انکشاف

کینٹ نے کہا کہ صدر نے ایران پرحملہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت مشیروں کے ایک چھوٹے گروپ پربھروسہ کیا۔ اسرائیل نے ٹرمپ پر کارروائی کا دباؤ ڈالا۔ امریکہ کے پاس ایران سے خطرے کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر:جوکینٹ ایکس ہینڈل</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دنیا کو مغلوب کرنے کی خواہش رکھنے والا امریکہ اپنی دھونس اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے کٹگھرے میں ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک بتاتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات کو نیست ونابود کرنے کے لیے گزشتہ سال بھی فوجی کارروائی کرکے اس کو زیرکرنے کی کوشش کی تھی۔ اب 28 فروری کو شروع ہونے والے فضائی حملے میں امریکی فوج اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی ٹھکانوں پر بمباری کررہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کے قریبی ساتھی علی لاریجانی اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی واسرائیلی حملے سے ایران میں اب تک 1440 سے زائد افراد جاں بحق اور 18400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تنازعہ عالمی کشیدگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں ہنگامہ آرائی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کٹگھرے میں آگئے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت میں استعفیٰ دینے والے امریکی انتظامیہ کے انسداد دہشت گردی محکمہ کے سینئر افسر جو کینٹ نے چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کے دباؤ میں ایران پر حملے کر رہے ہیں۔


دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار امریکی ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے دعویٰ کیا کہ انھیں اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایران میں جنگ کے بارے میں اپنے خدشات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت مشیروں کے ایک چھوٹے گروپ پر بھروسہ کیا۔ اسرائیل نے ٹرمپ پر کارروائی کرنے کا دباؤ ڈالا۔ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ ہے، اس بات کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔

کینٹ نے ٹکر کارلسن کے شو میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کے دوران کہا کہ ایران میں فوجی کارروائی جیسے اہم فیصلے کرنے والے کئی افسران کو صدر کے سامنے اپنی رائے ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ فضائی حملے سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس اور کھلی بحث بھی نہیں ہوئی۔ کینٹ نے کہا کہ میں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یہ واضح ہو گیا کہ میرے خدشات کو نظر انداز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں جانتا ہوں کہ جنگ کا یہ راستہ کارگر نہیں ہے، میرے ضمیر کی آواز ہے کہ مجھے ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بننا‘‘۔


قابل ذکر ہے کہ جو کینٹ نے رواں ہفتے ایران میں جنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اخلاقی وجوہات کا حوالہ دے کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفیٰ کے بعد ان کا بیان اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی فوج کا حملہ کیسے ہوا۔ ٹرمپ کے فیصلے کے حوالے سے ایسی اندرونی معلومات کا سامنے آنا انتظامیہ کے اندر گہری تشویش کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ دراصل یو ایس نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ کے طور پر کینٹ پر دہشت گردی کے خطرات کا تجزیہ اور خطرات کا پتہ لگانے کی ذمہ داری تھی۔ ان کا دفتر نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر (ڈی این آئی) تلسی گبارڈ کے تحت کام کرتا ہے۔ کینٹ کے استعفیٰ کے حوالے سے گبارڈ نے کہا کہ ایران سے خطرہ ہے یا نہیں، یہ طے کرنا صرف ٹرمپ کا کام تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔