قومی خبریں

راجستھان: ’کرسمس پر سانتا کلاز بنایا تو ہوگی کارروائی‘، سری گنگا نگر ضلع ایجوکیشن آفیسر کا اسکولوں کو فرمان جاری

محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ’’ایسے پروگرام بچوں پرغیرضروری دباؤ ڈالتے ہیں اورانہیں روکنا ضروری ہے۔ یہ حکم اسکولوں کو سماجی روایات کا احترام کرنے اور ثقافتی اختلافات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اےاین ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اےاین ایس

 

راجستھان کے سری گنگا نگر ضلع میں ایجوکیشن آفیسر نے 25 دسمبر کو کرسمس ڈے کے موقع پر بچوں کو سانتا کلاز بنانے کے سلسلے میں حکم جاری کیا ہے۔ یہ حکم سرکاری اور پرائیویٹ دونوں طرح کے اسکولوں پر نافذ العمل ہوگا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ضلع ہندو اور سکھ اکثریتی علاقہ ہے اور بچوں پر کسی بھی طرح کی روایت مسلط کرنا مناسب نہیں ہے۔

Published: undefined

یہ فیصلہ بھارت تبت کوآپریشن منچ کے ضلع صدر سکھجیت سنگھ اٹوال کی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے لیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ حکم حساسیت کے احترام کو یقینی بنانے کے مقصد سے جاری کیا گیا ہے اور اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بچوں پر کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے۔

Published: undefined

حکم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں میں بچوں کوسانتا کلاز بنانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ اگر کسی بھی اسکول میں اس طرح کا دباؤ ڈالا جاتا ہے تو محکمہ قواعد کے مطابق کارروائی کرے گا۔ تاہم، والدین یا تنظیم کی طرف سے شکایت موصول ہونے پر متعلقہ ادارے کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ یہ حکم تعلیمی دنیا میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور مقامی کمیونٹی اسے حساس اور مناسب قدم مان رہی ہے۔

Published: undefined

شکایت میں کہا گیا ہے کہ سری گنگا نگر ضلع بنیادی طور سے سناتن ہندو اور سکھ اکثریتی علاقہ ہے اور یہاں عیسائی خاندان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ کچھ برسوں سے اسکولوں میں کرسمس ڈے کے موقع پر بچوں کو سانتا کلاز بنانے کے لیے مجبور کیا جارہا تھا۔ محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ایسے پروگرام بچوں پرغیرضروری دباؤ ڈالتے ہیں اورانہیں روکنا ضروری ہے۔ یہ حکم اسکولوں کو سماجی روایات کا احترام کرنے اور ثقافتی اختلافات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔

Published: undefined

سری گنگا نگر میں محکمہ تعلیم کا یہ حکم واضح پیغام دیتا ہے کہ ثقافتی اور مذہبی تنوع کا احترام ضروری ہے۔ بچوں کو کسی بھی روایت میں دباؤ نہیں ڈالا جائے گا، اور اسکولوں کو اپنے پروگراموں میں چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے محکمہ تعلیم نے بچوں کے ذہنی اور سماجی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی ہے اور مستقبل میں کسی تنازعہ سے بچنے کے لیے قوانین پر عمل کرنے کے لیے اسکولوں کو جوابدہ ٹھہرایا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined