بنگلہ دیش میں آئینی اصلاحات، ریفرنڈم اور مشکلات...سوربھ سین

بنگلہ دیش میں آئینی ریفرنڈم کے بعد بی این پی اور اس کے اتحادیوں میں اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے۔ دوہری حلف برداری اور جولائی چارٹر پر عمل درآمد کے سوال نے سیاسی کشیدگی کو نیا رخ دے دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمن کی حلف برداری / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

سوربھ سین

بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی بھاری کامیابی کو محض انتخابی جیت نہیں بلکہ ملک کی سیاست میں ایک نئے تصادم کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر جماعتِ اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اس کے تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے، وہ آئینی اصلاحات کے عمل کو ایک پیچیدہ مرحلے میں لے آئی ہے۔ اس تناؤ کی بنیادی وجہ جولائی چارٹر کی حمایت کے باوجود بی این پی کا آئین اصلاح کمیشن (سی آر سی) میں شامل ہونے سے انکار ہے، جس نے سیاسی صف بندی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

عام انتخابات اور آئینی ریفرنڈم ایک ساتھ کرانے کے نتیجے میں نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ کو دو الگ الگ حلف اٹھانے پڑے- ایک رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے اور دوسرا آئین اصلاح کمیشن کے رکن کے طور پر۔ دوسرے حلف کے تحت جولائی چارٹر پر عمل درآمد لازم قرار دیا گیا تھا۔ بی این پی کے ایک سینئر رہنما نے اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سی آر سی کے رکن کے طور پر حلف اٹھا لیتے ہیں تو انہیں نہ صرف چارٹر نافذ کرنا ہوگا بلکہ اس کی اہم شقوں پر اختلاف کا حق بھی عملاً ختم ہو جائے گا۔

بی این پی کی پالیسی ساز مستقل کمیٹی کے رکن اور نومنتخب رکنِ پارلیمنٹ صلاح الدین احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین اصلاح کمیشن کا قیام ابھی تک باقاعدہ آئینی ڈھانچے کا حصہ نہیں، اس لیے پارٹی خود کو اس کا پابند نہیں سمجھتی۔ ان کے مطابق ارکان کو سی آر سی کے رکن کے طور پر منتخب نہیں کیا گیا، اس لیے یہ تقاضا آئینی طور پر کمزور ہے۔

17 فروری کی صبح سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب جماعتِ اسلامی اور این سی پی کے نومنتخب ارکان نے رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ جماعت کے نائب امیر عبداللہ محمد طاہر نے واضح کیا کہ جب تک بی این پی ارکان دوہرا حلف نہیں لیتے، وہ بھی حلف نہیں اٹھائیں گے۔ طویل بند کمرہ مشاورت کے بعد ان جماعتوں نے بالآخر دونوں حلف اٹھا لیے، تاہم انہوں نے وزیرِ اعظم طارق رحمان اور ان کی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے باوجود بی این پی سی آر سی سے باہر ہی رہی۔


یہ سوال اہم ہے کہ آخر جماعت اور این سی پی نے پسپائی کیوں اختیار کی؟ ڈھاکہ-14 سے منتخب جماعت کے رکن میر احمد بن قاسم کے مطابق حلف نہ لینے کا فیصلہ جماعت کی باضابطہ پالیسی نہیں تھا بلکہ اتحادیوں اور چند ارکان کی رائے تھی۔ بعض حلقوں میں سی آر سی کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بات بھی ہوئی، جو آئندہ طویل قانونی کشمکش کی نشاندہی کرتی ہے۔

5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد محمد یونس کی عبوری انتظامیہ نے انتخابات کی نگرانی کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات کا عمل بھی شروع کیا۔ اس کا مقصد موروثی سیاست کا خاتمہ تھا، خواہ وہ مجیب الرحمن کا خاندان ہو یا ضیاء الرحمٰن کا۔ اسی سلسلے میں قومی اتفاق رائے کمیشن (این سی سی) قائم کیا گیا، جس نے جولائی چارٹر کی صورت میں سفارشات مرتب کیں۔ 17 اکتوبر 2025 کو 26 سیاسی جماعتوں نے اس چارٹر پر دستخط کیے۔

61 صفحات پر مشتمل جولائی چارٹر میں آئین، انتخابی نظام، عدلیہ، سول و پولیس انتظامیہ اور انسدادِ بدعنوانی کے اداروں میں اصلاحات کی سفارشات شامل تھیں۔ 13 نومبر 2025 کو صدر محمد شہاب الدین چپّو نے الیکشن کمیشن کو ریفرنڈم کرانے کی اجازت دی، جس میں چار بڑی اصلاحات پر عوام سے رائے لی گئی: نگران حکومت کی بحالی، دو ایوانی پارلیمنٹ کا قیام، عدلیہ و الیکشن کمیشن میں اصلاحات اور وزیرِ اعظم کی مدت کو دو ادوار تک محدود کرنا۔

12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم میں 60.25 فیصد ووٹرز نے حصہ لیا۔ ان میں سے 62.74 فیصد نے اصلاحاتی پیکیج کے حق میں اور تقریباً 30 فیصد نے مخالفت میں ووٹ دیا، جبکہ 9.5 فیصد بیلٹ مسترد ہوئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 11 حلقوں میں، جن میں گوپال گنج اور پہاڑی اضلاع کے تین حلقے شامل تھے، اکثریت نے ’نہیں‘ کا انتخاب کیا۔


جولائی چارٹر نے قومی شناخت کی ازسرِنو تعریف کی تجویز بھی دی۔ ’بنگالی‘ کے بجائے ’بنگلہ دیشی‘ شناخت کو اپنانے کا مقصد چکما، مرما اور سنتھال جیسی نسلی اقلیتوں کو شامل کرنا تھا، جو خود کو لسانی شناخت میں نظرانداز سمجھتی تھیں۔ اگرچہ بنگالی زبان ریاست کی مرکزی زبان برقرار ہے، تاہم دیگر مادری زبانوں کو آئینی شناخت دی گئی ہے۔ مجیب دور کی چار بنیادی اقدار—قوم پرستی، جمہوریت، سوشلزم اور سیکولرازم—کی جگہ مساوات، انسانی وقار، سماجی انصاف اور مذہبی ہم آہنگی کو مرکزی اصول بنایا گیا ہے۔

دیگر اصلاحات میں ایک شخص کو بیک وقت وزیرِ اعظم، ایوان کا قائد اور جماعت کا صدر بننے سے روکنا، انسانی حقوق و اطلاعات کمیشنوں کے سربراہان کی تقرری میں صدر کے اختیارات بڑھانا، اور ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن کا قیام شامل ہیں۔ مزید برآں، غیر جانبدار نگران حکومت کو عام انتخابات کی نگرانی کے لیے بحال کیا گیا ہے، جسے 2011 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور 2024 کی عوامی بغاوت کے پس منظر میں بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے، جبکہ ذاتی معلومات کے تحفظ کو بھی آئینی ضمانت دی گئی ہے۔

دو تہائی اکثریت رکھنے والی بی این پی کا مؤقف ہے کہ وہ ایسے چارٹر پر عمل درآمد کی پابند نہیں جو اس کے تحفظات کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ پارٹی نے خاص طور پر ایوانِ بالا کے لیے متناسب نمائندگی کے نظام پر اعتراض کیا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے بڑی جماعتوں کا مینڈیٹ کمزور ہوگا۔ بعض طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی اسے ’سیاسی سمجھوتہ‘ قرار دے کر تنقید کی ہے۔ مزید برآں، عوامی لیگ کو مشاورتی عمل سے باہر رکھنا بھی آئینی جامعیت کے اصول کے منافی سمجھا جا رہا ہے۔

سابق سفیر محمد ہمایوں کبیر کے مطابق 17 فروری کا بحران ٹالا جا سکتا تھا، کیونکہ اس سے کوئی مثبت پیغام نہیں گیا۔ بظاہر اختلاف وقتی طور پر کم ہوا ہے، مگر پارلیمنٹ میں بی این پی کی اکثریت کے باوجود آئینی نفاذ کے دوران سیاسی خلیج مزید گہری ہونے کا اندیشہ برقرار ہے۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا سے تعلق رکھنے والے آزاد مصنف اور سیاسی، انسانی حقوق و خارجی امور کے تبصرہ نگار ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔