ڈاکٹر راگنی نایک / تصویر قومی آواز
نئی دہلی: دہلی کے مصطفی آباد اسمبلی حلقے کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ بی جے پی کے نومنتخب ایم ایل اے موہن سنگھ بشٹ نے مصطفی آباد کا نام ’شیوپوری‘ یا ’شیو وہار‘ رکھنے کا مطالبہ کیا، جس پر کانگریس کی ترجمان راگنی نائک نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
Published: undefined
راگنی نائک نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کو دہلی کے عوام نے ایک بڑی ذمہ داری دی ہے۔ دہلی میں ان کا 27 سال کا ’ونواس‘ ختم ہوا ہے۔ وہ 5 ٹریلین کی معیشت، سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے نعرے لگا کر اقتدار میں آئے ہیں لیکن اب وہ ترقی اور خوشحالی کے بجائے نام بدلنے پر فوکس کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
کانگریس کی ترجمان نے مزید کہا، ’’انہوں نے بہنوں اور بیٹیوں کو پیسہ دینے کا وعدہ کیا تھا، یمنا کو صاف کرنے کی بات کی تھی لیکن ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسمبلی حلقوں کے نام کیسے بدلے جائیں؟ وہ مصطفی آباد کا نام بدلنے کی بات کر رہے ہیں، کیا لوگوں نے انہیں مصطفی آباد کا نام بدلنے کے لیے اکثریت دی تھی؟ جن کے نام بڑے اور درشن چھوٹے ہوتے ہیں، وہ ایسی حقیر باتیں کرتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
قبل ازیں، موہن سنگھ بشٹ نے علاقے کا نام بدلنے کی تجویز دی تھی اور اس کی جگہ ’شیوپوری‘ یا ’شیو وہار‘ کا نام رکھا جانے کا کہا تھا۔ بشٹ نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ایک طرف 58 فیصد لوگ ہیں، دوسری طرف 42 فیصد۔ اسمبلی کا نام 42 فیصد لوگوں کی پسند کا نہیں ہو سکتا۔ یہ 58 فیصد لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ میں اس اسمبلی حلقہ کا نام اکثریتی لوگوں کے نام پر تبدیل کراؤں گا۔ جیسے ہی اسمبلی کا پہلا اجلاس شروع ہوگا، میں یہ تجویز لاؤں گا کہ مصطفی آباد اسمبلی کا نام بدل کر شیوپوری یا شیو وہار رکھا جائے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز