جعلی ڈگری معاملے میں جے ایس یونیورسٹی کی منظوری منسوخ، اب آگرہ یونیورسٹی جاری کرے گی ڈگری
جے ایس یونیورسٹی کی منظوری منسوخ ہونے کے بعد اب وہاں کےطلباء کی ڈگری اور سرٹیفکیٹ کی تصدیق اور تعلیمی سرگرمیاں آگرہ واقع ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔

جعلی ڈگری معاملے میں اترپردیش حکومت بے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے فیروز آباد کے شکوہ آباد واقع جے ایس یونیورسٹی کی منظوری منسوخ کر دی ہے۔ ریاست کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر یوگیندر اپادھیائے نے منگل کو ہوئی کابینہ میٹنگ میں یہ اعلان کیا۔ فی الحال متاثرہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو اب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، آگرہ سے ملحق کیا جائے گا۔
جے ایس یونیورسٹی اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ نے 16 جون 2022 کو پی ٹی آئی تھرڈ گریڈ کی بھرتی میں جعلی ڈگریاں پکڑی تھیں۔ مارچ 2025 میں راجستھان پولیس نے جے ایس یونیورسٹی پر چھاپہ مارکر یونیورسٹی کے رجسٹرار نند لال مشرا کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد جے ایس یونیورسٹی کے وائس چانسلر سکیش یادو اور ان کی اہلیہ کو دہلی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اترپردیش کابینہ میٹنگ میں اعلیٰ تعلیم کے وزیر یوگیندر اپادھیائے نے بتایا کہ فرضی مارک شیٹ معاملے کی تحقیقات کے بعد جے ایس یونیورسٹی شکوہ آباد کی منظوری منسوخ کر دی گئی ہے۔ وہیں حکومت نے واضح کیا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا فراڈ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ نے 16 جون 2022 کو پی ٹی آئی تھرڈ گریڈ کے لیے بھرتی کا اعلان کیا تھا۔ اس کا امتحان 25 ستمبر2022 کو ہوا تھا اور نتائج کا اعلان اکتوبر 2022 میں کیا گیا تھا۔ اس میں آن لائن فارم کی تصدیق میں تضادات پائے گئے تھے۔
اس سلسلے میں 2022 میں منعقدہ فزیکل ٹیچر ٹیسٹ کے لیے 5,390 امیدواروں نے اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹ اور دستاویزات جمع کرائے تھے۔ ان میں سے 254 امیدواروں نے جے ایس یونیورسٹی شکوہ آباد کی ڈگریاں جمع کی تھیں جن میں تصدیق کے دوران 108 امیدواروں کے کاغذات جعلی پائے گئے تھے۔ اس کے بعد ڈی ای او آر ڈی بنسل نے اس معاملے میں جعلی ڈگری لگاکر نوکری حاصل کرنے والے 4 امیدواروں کو نوٹس جاری کرکے ان کی خدمات ختم کر دی تھیں۔
اس معاملے میں راجستھان پولیس کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل اے ٹی ایس اور ایس او جی وجے کمار کی نگرانی میں جانچ کی گئی۔ تحقیقات کے دوران جے ایس یونیورسٹی کے وائس چانسلر سکیش یادو، رجسٹرار نند لال مشرا، سکیش یادو کی بیوی اورایک دلال کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
یونیورسٹی کی منظوری منسوخ ہونے کے بعد اب وہاں کےطلباء کی ڈگری اور سرٹیفکیٹ کی تصدیق اور تعلیمی سرگرمیاں آگرہ واقع ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس فیصلے سے طلبہ کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان کے مفادات کی پوری طرح حفاظت کی جائے گی۔ جے ایس یونیورسٹی کے معاملے پر حکومت نے واضح کیا ہے کہ قصورواراداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی لیکن طلباء کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دی جائے گی۔ آگرہ یونیورسٹی کے ذریعہ تصدیق اور دیگر متعلقہ تعلیمی سرگرمیوں کی ذمہ داری سنبھالنے سے طلباء کو ان کی ڈگری کے جواز کے حوالے سے بھروسہ ملے گا۔