جموں و کشمیر: ’شرائن بورڈ میڈیکل کالج‘ کی ایم بی بی ایس منظوری منسوخ، 50 نشستوں پر فوری روک
نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے شرائن بورڈ میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کی منظوری منسوخ کر دی ہے، یہ کارروائی تعلیمی سال 26-2025 کے لیے کی گئی ہے۔

نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع میں واقع ’شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس‘ (شرائن بورڈ میڈیکل کالج) کے خلاف اہم کارروائی کی ہے۔ این ایم سی نے میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کی منظوری منسوخ کر دی ہے، یہ کارروائی تعلیمی سال 26-2025 کے لیے کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کالج کو دی گئی 50 ایم بی بی ایس سیٹوں کی اجازت فوری طور پر واپس لے لی گئی ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ شائع خبر کے مطابق این ایم سی کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (ایم اے آر بی) نے 6 جنوری کو کالج کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران ادارے میں کم از کم معیارات کی سنگین خلاف ورزیاں پائی گئیں۔ کمیشن نے اسے ریگولیشن 2023 کی براہ راست خلاف ورزی سمجھتے ہوئے کالج کو جاری کیا گیا لیٹر آف پرمیشن (ایل او پی) منسوخ کر دیا۔ این ایم سی کی کارروائی کے تحت کالج کی بینک گارنٹی بھی ضبط کی جائے گی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالجوں کے لیے زمینی سطح پر مکمل تیاری اور طے شدہ معیارات پر عمل کرنا لازمی ہے، تب ہی تعلیمی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی۔
این ایم سی نے واضح کیا ہے کہ ’’کہ پہلے ہی داخلہ لے چکے طلبہ کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کمیشن نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایات دی ہیں کہ موجودہ ایم بی بی ایس طلبہ کو ریاست کے دیگر تسلیم شدہ میڈیکل کالجوں میں ’سپر نیومری‘ نشستوں پر منتقل کیا جائے۔‘‘ یہ عمل این ایم سی کے قواعد کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو طبی تعلیمی اداروں کے لیے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ این ایم سی افسران نے اعادہ کیا کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور طلبہ کے مفادات سب سے مقدم رہیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔