
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے 28 جنوری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی پیش کردہ تقریر کے بعد مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ تیار کی گئی تقریر مایوس کن اور کھوکھلے وعدوں سے بھرپور تھی۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرنے والی مودی حکومت نے منریگا کو ختم کر دیا اور کروڑوں لوگوں کے ذریعہ معاش کو ختم کر دیا۔
Published: undefined
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر سال مرکزی کابینہ صدر جمہوریہ کی تقریر کو ایک ’ریسائیکل ریچوئل‘ کی طرح پاس کر دیتی ہے، اور بغیر کسی سچائی یا ذمہ داری کے انہی دعووں کو دوبارہ استعمال کرتی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’وِکست بھارت کا نعرہ زور و شور سے دہرایا جاتا ہے، پھر بھی اس میں کوئی واضح ہدف، کوئی واضح مدت کار دکھائی نہیں دیتی ہے۔‘‘
Published: undefined
کھڑگے نے منریگا ختم کیے جانے پر اپنی نارضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پر بڑی بڑی تقریریں کرتے ہوئے غریب مخالف اور سرمایہ دار حامی مودی حکومت نے منریگا کو بے رحمی سے ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا ایکٹ تھا جو کام کے حق کی گارنٹی دیتا۔ اسے ختم کر کروڑوں مزدوروں کا ذریعہ معاش چھین لیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ یہ کیسا ’وِکست بھارت‘ ہے جہاں غریبوں کو زندہ رہنے کے وسائل سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور نعروں کے لیے عزت کی قربانی دے دی جاتی ہے؟
Published: undefined
صدر جمہوریہ کی تقریر پر کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں سے پارلیمنٹ احاطہ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ صرف انہی چیزوں کو دہرایا گیا جو وہ پہلے کہہ چکی ہیں۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’یہ حکومت کے ذریعہ تیار کردہ پوری طرح سے کھوکھلی تقریر تھی۔‘‘ کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے اس سلسلے میں کہا کہ ’’عزت مآب صدر جمہوریہ اس تقریر کے لیے صرف حکومت کی ترجمان ہیں۔ تقریر حکومت کے ذریعہ لکھی جاتی ہے اور کابینہ کے ذریعہ اسے منظور کیا جاتا ہے۔ اس تقریر میں کوئی نظریہ موجود نہیں تھا۔ صرف حکومت کے نام نہاد منصوبوں کی ایک فہرست پڑھی گئی۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined