’یہ حادثہ تھا، اس میں سیاست کا کوئی دخل نہیں‘، اجیت پوار کے انتقال پر چچا شرد پوار کا پہلا رد عمل آیا سامنے

شرد پوار نے کہا کہ مہاراشٹر آج ایک ایسی قیادت سے محروم ہو گیا، جس کا ازالہ کبھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف فیملی یا این سی پی کا خسارہ نہیں ہے بلکہ پوری ریاست کے لیے ناقابل تلافی خسارہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شردپوار اور اجیت پوار (فائل)/ تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایک طرف طیارہ حادثہ میں اجیت پوار کی موت پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان نے نیا تنازعہ پیدا کر دیا ہے، اور دوسری طرف این سی پی (ایس پی) چیف شرد پوار کا پہلا رد عمل سامنے آیا ہے جو ممتا بنرجی کے بیان کو غیر اہم بنا رہا ہے۔ اپنے بھتیجے اجیت پوار کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ’’یہ طیارہ حادثہ پوری طرح سے ایک حادثہ ہے، اور اس میں کسی بھی طرح کی سیاست کا کوئی دخل تلاش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مہاراشٹر آج ایک ایسی قیادت سے محروم ہو گیا، جس کا ازالہ کبھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف فیملی یا این سی پی کا خسارہ نہیں ہے بلکہ پوری ریاست کے لیے ناقابل تلافی خسارہ ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے طیارہ حادثہ میں اجیت پوار کی موت کو سیاسی سازش سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اجیت پوار اپنے چچا شرد پوار کے ساتھ واپس جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے، اور ایسے میں یہ حادثہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ممتا کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی چیف اکھلیش یادو نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ پورے واقعہ کی تفتیش کی جانی چاہیے، کیونکہ اجیت پوار ایک اہم عہدے پر تھے، وہ 6 بار مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ رہے تھے۔


بہرحال، شرد پوار کے بیان نے ممتا بنرجی کے بیان کو ایک طرح سے بے معنی کر دیا ہے۔ حالانکہ کئی سیاسی لیڈران نے طیارہ حادثہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے اور ضرور بتایا ہے کہ سچائی لوگوں کے سامنے آنی چاہیے۔ اس درمیان اجیت پوار کی آخری رسومات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ جمعرات کی صبح 11 بجے آخری رسومات پونے ضلع واقع بارامتی کے ’ودیا پرتشٹھان میدان‘ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ آخری رسومات میں برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن کے کئی لیڈران شرکت کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔