
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
بی سی سی آئی (بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا) کی ٹیم کو ’ٹیم انڈیا‘ کہنے پر پابندی کی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کر دی ہے۔ عدالت نے عرضی کو فضول قرار دیتے ہوئے عرضی گزار کی سخت سرزنش بھی کی ہے۔ عدالت نے اسے عدالتی وقت کی بربادی قرار دیتے ہوئے عرضی گزار پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی وارننگ بھی دی۔
Published: undefined
وکیل ریپک کنسل کی عرضی میں کہا گیا تھا کہ بی سی سی آئی ایک پرائیویٹ ادارہ ہے۔ یہ حکومت سے تسلیم شدہ قومی کھیلوں کی فیڈریشن نہیں ہے۔ بی سی سی آئی آر ٹی آئی قانون کے تحت عوامی معلومات فراہم نہیں کرتا ہے۔ ایسی تنظیم کی ٹیم کو ہندوستانی ٹیم کہنا اور اسے قومی پرچم کے استعمال کی اجازت دینا غلط ہے۔ عرضی گزار نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ پرسار بھارتی کو یہ حکم دے کہ دوردرشن اور آکاشوانی پر بی سی سی آئی کی ٹیم کو ہندوستانی کرکٹ ٹیم نہ کہا جائے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ جمعرات (22 جنوری) کو یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وِپل ایم پنچولی کی بنچ میں سماعت کے لیے لگا۔ بنچ نے عرضی کو غیر ضروری قرار دیا۔ بنچ کے رکن جسٹس باغچی نے سوال کیا کہ ہندوستان میں ایک سے زیادہ ادارے کرکٹ کو چلا رہے ہیں؟ کیا 3-2 ٹیموں کے درمیان ’ہندوستانی کرکٹ ٹیم‘ ہونے کے حوالے سے کوئی تنازعہ ہے؟ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ جب کوئی تنازعہ نہیں ہے تو اس عرضی کا کوئی مطلب نہیں۔
Published: undefined
سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ’’اگر ہندوستانی حکومت اس معاملہ کو رکھتی اور کرکٹ ٹیم کو ٹیم انڈیا کہنے پر اعتراض کرتی تو سمجھا جا سکتا تھا، لیکن حکومت نے وقتاً فوقتاً بی سی سی آئی کی حمایت کی اور اسے تسلیم کیا ہے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ نے نیشنل اسپورٹس ایڈمنسٹریشن ایکٹ پاس کیا ہے، جس کے تحت کھیلوں کے تمام اداروں کو ریگولیٹ کیا جائے گا۔
Published: undefined
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’’یہ عرضی پہلے ہائی کورٹ نے بھی خارج کی تھی۔ ہائی کورٹ کو عرضی گزار سے وقت برباد کرنے کے لیے بھاری جرمانہ وصول کرنا چاہیے تھا۔‘‘ اس کے بعد بنچ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے عرضی گزار پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کی بات کہی۔ حالانکہ عدالت نے عرضی گزار کے وکیل کی درخواست پر جرمانے کا حکم واپس لے لیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
ویڈیو گریب