’کانگریس لیڈرشپ میں تبدیلی کا سوال ہی نہیں، ہم پنجاب فتح کریں گے‘، میٹنگ کے بعد وینوگوپال کا بیان

کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے پنجاب میں پیدا حالات پر میڈیا سے کہا کہ ’’ہم نے آج بہت واضح ہدایت دے دی ہے۔ سبھی نے لیڈرشپ کے فیصلہ پر متفقہ طور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پنجاب اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس کے ذریعہ کی گئی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پنجاب میں اسمبلی انتخاب آئندہ سال ہونا ہے، اس کے پیش نظر کانگریس نے تیاریاں ابھی سے شروع کر دی ہیں۔ پنجاب کانگریس میں داخلی رنجش کی خبروں کے درمیان آج دہلی میں سرکردہ کانگریس لیڈران کی میٹنگ ہوئی، جس میں پنجاب سے متعلق حکمت عملی تیار کی گئی۔ میٹنگ میں پنجاب کانگریس لیڈران و کارکنان میں اتحاد قائم رکھنے پر زور دیا گیا اور ان کے لیے کچھ ہدایتیں بھی جاری کی گئیں۔

اس میٹنگ میں پنجاب کانگریس کے اہم لیڈران بھی موجود تھے۔ میٹنگ کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری و رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے میڈیا کے سامنے کچھ اہم باتیں رکھیں۔ وینوگوپال نے میڈیا کو مطلع کیا کہ ’’ہم نے آج بہت صاف ہدایت جاری کی ہے۔ سبھی نے لیڈرشپ کے فیصلہ پر متفقہ طور سے رضامندی ظاہر کی۔‘‘ پنجاب میں لیڈرشپ کی تبدیلی سے متعلق امکانات پر جب وینوگوپال سے میڈیا اہلکاروں نے سوال کیا، تو انھوں نے کہا کہ ’’ابھی لیڈرشپ میں تبدیلی کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔‘‘


پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنّی بڑے عہدوں پر دلت نمائندگی کا معاملہ گزشتہ دنوں زور و شور سے اٹھایا تھا۔ وینوگوپال نے اس بارے میں بھی میڈیا کے سامنے پارٹی کا موقف رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم سبھی طبقات، خصوصاً درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) اور جنرل طبقہ کے غریب لوگوں کو نمائندگی دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’یہ وہ نظریہ ہے جسے پارٹی نے پورے ہندوستان میں اپنایا ہے۔ یہ پنجاب پر بھی نافذ ہوتا ہے، لیکن میڈیا میں جا کر کچھ بولنا اور سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں انجان دینا، جو پارٹی کو نقصان پہنچائے، مناسب نہیں ہے۔ اہل طبقات کو نمائندگی دینا ہماری ذمہ داری ہے، ہائی کمانڈ کی ذمہ داری ہے۔‘‘ وینوگوپال نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’کل سے سبھی کانگریس لیڈران اور کانگریس فیملی ایک ساتھ ہوں گے۔ ہم پنجاب جیتیں گے۔ کانگریس متحد ہو کر لڑے گی اور پنجاب کے لوگوں کی حمایت سے پنجاب جیتے گی۔‘‘

بھوپیش بگھیل نے بھی میڈیا کے سامنے پنجاب میں کانگریس کی فتح کی امید ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج سینئر لیڈران کے ساتھ پنجاب سے متعلق اہم میٹنگ ہوئی، جس میں آئندہ سال کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔ پنجاب کی عوام اور کارکنان سبھی چاہتے ہیں کہ یہاں کانگریس کی حکومت بنے، کیونکہ پنجاب سرحدی ریاست ہونے کے سبب بے حد اہم ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کی آواز سنیں اور اس کے مطابق کام کریں۔ اعلیٰ قیادت کے ذریعہ ڈسپلن کے لیے بہت سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پارٹی کے اندر ڈسپلن شکنی کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔