
پون کھیڑا / ویڈیو گریب
کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی پینے سے ہونے والی اموات کو بی جے پی حکومت کی سنگین ناکامی قرار دیا۔ نئی دہلی میں کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں اب تک 18 افراد کی جان جا چکی ہے جبکہ قریب 100 لوگ اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، لیکن حکومت سنجیدگی دکھانے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
Published: undefined
پون کھیڑا نے کہا کہ اندور کو ’سوچھ بھارت مشن‘ کے تحت تقریباً 9 مرتبہ ملک کا سب سے صاف شہر قرار دیا گیا، مگر آلودہ پانی سے ہونے والی یہ اموات اس مہم اور ’ہر گھر جل مشن‘ کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 22 جولائی 2022 کو پائپ لائن بدلنے کے ٹھیکے کی منظوری مل چکی تھی تو اس پر اب تک کام کیوں نہیں ہوا؟ ان کے مطابق اس تاخیر کے پیچھے کٹ کمیشن کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ صرف اندور ہی نہیں بلکہ مرکزی وزیر داخلہ کے حلقہ گاندھی نگر میں بھی ٹائفائڈ پھیل رہا ہے، مگر قومی میڈیا میں اس پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی تو پانی کالا بتایا گیا، بی جے پی حکومت آئی تو پانی پیلا ہو گیا، مگر اصل مسئلہ یعنی عوامی صحت پر بات نہیں کی جا رہی۔
Published: undefined
پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں ہوا، پانی، دوا، کف سیرپ اور غذائی اشیا تک میں زہر شامل ہو چکا ہے، اور ایسے حالات کو امرت کال کہنا عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صحافی سوال اٹھاتے ہیں تو بی جے پی کے رہنما بد زبانی کرتے ہیں، کیونکہ اس حکومت کو سوالوں کی عادت ہی نہیں ہے۔
انہوں نے مدھیہ پردیش کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیلاش وجے ورگیہ گالیاں دیتے ہیں، وزیر اعلیٰ موہن یادو گانے گاتے ہیں اور ان کی لاپروائی کا خمیازہ معصوم بچے بھگت رہے ہیں، جبکہ کئی برسوں سے ریاست میں بی جے پی کی حکومت قائم ہے۔
Published: undefined
پون کھیڑا نے انٹرنیشنل سینٹر فار سسٹین ایبلٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا 70 فیصد پانی آلودہ ہو چکا ہے، مگر بی جے پی حکومت جان بوجھ کر عوام کو غیر ضروری باتوں میں الجھائے رکھتی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہر گھر جل اسکیم پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے، مگر یہ اسکیم ’ہر گھر جل‘ کے بجائے ’ہر گھر مل (غلاظت)‘ اسکیم بن کر رہ گئی، کیونکہ گھروں میں آنے والے پانی میں گندگی پائی گئی۔
کانگریس رہنما نے اس معاملے کی براہ راست ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ لچھے دار تقاریر کے علاوہ زمینی حقیقت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی رقوم کہاں خرچ ہوئیں اور آلودہ پانی سے متعلق تمام طبی و سرکاری جانچ کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی جا رہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined