توانائی کے سنگین بحران کے باعث اچانک اندھیرے میں ڈوب گیا 1.1 کروڑ کی آبادی والا ملک ’کیوبا‘
کیوبا پر امریکہ نے اقتصادی پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے حالیہ سالوں میں توانائی کا بحران اس کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

کیوبا میں جاری بحران کے کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ یہ ملک ایک بار پھر اندھیرے کی زد میں آ گیا ہے۔ پیر (16 مارچ) کو اچانک کیوبا کی راجدھانی ہوانا سمیت پورے ملک میں بجلی گُل ہو گئی اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ کئی گھنٹوں تک بجلی سپلائی ٹھپ ہونے کی وجہ سے گھروں، اسپتالوں اور ٹرانسپورٹ خدمات پر سنگین اثرات پڑے ہیں۔ پیر کو ملک گیر ’بلیک آؤٹ‘ کے سبب تقریباً 1.1 کروڑ لوگ اندھیرے میں ڈوب گئے۔
کیوبا کی وزارت توانائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے بجلی گِرڈ نے کام کرنا مکمل طور سے بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے تمام علاقوں سے بجلی غائب ہو گئی، زیادہ تر گھروں میں متبادل انتظامات موجود نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ نہیں بتیا کہ کس وجہ سے بجلی کی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس بڑے ’بلیک آؤٹ‘ کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت کیوبا شدید معاشی تنگی سے دوچار ہے اور یہاں کا توانائی نظام پہلے سے ہی کمزور حالت میں ہے۔ ملک کے زیادہ تر بجلی پلانٹ پرانے ڈھانچے پر مبنی ہیں، جن کی باقاعدہ دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ایسے مسائل پیش آ رہے ہیں۔ ایسے میں تیل کی فراہمی معطل ہونے سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ کیوبا پر امریکہ نے اقتصادی پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے حالیہ سالوں میں توانائی کا بحران اس کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ امریکی پالیسی کی وجہ سے کیوبا کو بین الاقوامی مارکیٹ سے پورا تیل نہیں مل پا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اچانک بجلی گُل ہو جانے کی وجہ سے عام لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کو پانی کی سپلائی، موبائل نیٹورک اور انٹرنیٹ خدمات میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چھوٹے کاروبار اور صنعتیں بھی ٹھپ ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے معاشی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ حکومت نے ایمرجنسی اقدامات کے تحت متبادل توانائی کے ذرائع اور محدود سپلائی کے ذریعہ حالات کو سنبھالنے کی کوشش شروع کر ی ہے۔
دوسری جانب یہ خبر آ رہی ہے کہ جب تک ملک میں ایندھن کی باقاعدہ ترسیل یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک ’بلیک آؤٹ‘ کا خطرہ برقرار رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق پیر کی رات تک ہوانا کے تقریباً 5 فیصد حصے میں بجلی بحال کر دی گئی، جس سے تقریباً 42 ہزار صارفین کو راحت ملی۔ لیکن اب بھی ملک کے بڑے حصے میں اندھیرا قائم ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔