ایل پی جی بحران: ’یہ کمزور اور دباؤ میں چلنے والی خارجہ پالیسی کا نتیجہ‘، راہل گاندھی نے پھر پی ایم مودی کو ٹھہرایا ذمہ دار

راہل گاندھی نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت نے وقت رہتے خطرے کو پہچانا ہی نہیں۔ توانائی بحران کے اشارے پہلے سے مل رہے تھے، لیکن حکومت نے تاخیر سے اور آدھے ادھورے قدم اٹھائے۔

<div class="paragraphs"><p>گیس سلنڈر، سرکار سرینڈر؛ ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی حکومت بھلے ہی دعوے کر رہی ہے کہ ایل پی جی بحران صرف لوگوں میں پھیلائی گئی گمراہی کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں ایسے لوگ نکل کر سامنے آ رہے ہیں جہاں کئی دنوں سے کھانا نہیں بن پایا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جن میں قطار بند لوگ پریشان حال دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ ایل پی جی سلنڈر کی کالابازاری کی شکایت کر رہے ہیں اور گھنٹوں لائن میں لگنے کے بعد بھی خالی ہاتھ واپسی پر مایوسی بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ایک بار پھر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے موجودہ حالات کے لیے پوری طرح سے وزیر اعظم مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’ملک میں ایل پی جی بحران گہراتا جا رہا ہے، لیکن مودی حکومت حل تلاش کرنے کی جگہ جھوٹے فسانے، سوال پوچھنے والوں کو طعنے اور نئے نئے بہانے دے رہی ہے۔‘‘ انھوں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں موجودہ خراب حالات اور عوام کی پریشانی کو دکھایا گیا ہے۔


سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’حقیقی معنوں میں حکومت خود گھبرائی ہوئی ہے۔ گھبراہٹ کا پہلا اشارہ کیا تھا؟ سپلائی رُکتے ہی گیس کی قیمت بڑھا دی گئی۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’بحران کا بوجھ کس پر ڈالا گیا؟ آپ پر، ملک کی عوام پر۔ یہ بحران اچانک نہیں آیا۔ یہ کمزور اور دباؤ میں چلنے والی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘‘ حزب اختلاف کے قائد نے کہا کہ ’’جب امریکہ نے ہماری توانائی پالیسی پر دباؤ ڈالا تو کمپرومائزڈ پی ایم جھک گئے اور اس کا سمجھوتہ کر لیا۔‘‘

راہل گاندھی نے حکومت کی پالیسی پر مبنی ناکامی کو بھی موجودہ حالات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت کی ایک بہت بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہندوستان کو درآمدات پر پوری طرح منحصر بنا دیا گیا۔ ملک کی گھریلو توانائی صلاحیت تیرا کرنے میں حکومت ناکام رہی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت نے وقت رہتے خطرے کو پہچانا ہی نہیں۔ توانائی بحران کے اشارے پہلے سے تھے، لیکن حکومت نے تاخیر سے اور آدھے ادھورے قدم اٹھائے۔‘‘


مشکلات کا سامنا کر رہی عوام کے تئیں اپنی ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آج حالات یہ ہیں کہ کاروبار بند ہو رہے ہیں، گھروں میں چولہے بجھ رہے ہیں۔ تکلیف کون برداشت کر رہا ہے؟ آپ، ملک کی عوام۔ حقیقت صاف ہے، مودی حکومت نے ہندوستان کی توانائی سیکورٹی سے سمجھوتہ کیا ہے۔ اور اگر اب بھی تیاری نہیں ہوئی تو آنے والا وقت مزید بڑا بحران لے کر آئے گا۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’مزید مشکل حالات پیدا ہوئے تو سب سے بڑی قیمت پھر انہی کو ادا کرنی ہوگی، یعنی گیس کی قطاروں میں کھڑی ہندوستان کی عوام کو، یعنی آپ کو۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔