’گیس کی قلت بنام مودی جی کے ایپسٹین گینگ کی جملہ بازی‘، موجودہ حالات پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

’’جو حکومت کہہ رہی تھی ’ہماری تیاری پوری ہے‘، اسی حکومت نے اب ملک میں ’ایسنشیل کموڈیٹیز ایکٹ‘ نافذ کر دیا ہے۔ ابھی 10 دن پہلے تک حکومت کہہ رہی تھی کہ ہمارے پاس ضروری تیل اور گیس کا اسٹاک ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کانگریس ترجمان سپریا شرینیت، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کا دعویٰ ایک بار پھر غلط ثابت ہو گیا اور ملک میں گیس کی قلت کھل کر سامنے آ گئی۔ اس معاملہ میں کانگریس نے انتہائی تلخ تیور اختیار کر لیا ہے اور موجودہ حالات پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے پارٹی ترجمان سپریا شرینیت کا ایک ویڈیو پیغام اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے، جس کو عنوان دیا ہے ’گیس کی قلت بنام مودی جی کے ایپسٹین گینگ کی جملہ بازی‘۔

تقریباً 4.30 منٹ کی اس ویڈیو میں سپریا شرینیت کہتی ہیں کہ ’’آج نہ چاہتے ہوئے بھی 5 سال پہلے کورونا وبا میں مودی حکومت کی بدانتظامی اور روح فرسا دینے والی خوفناک تصویریں یاد آ رہی ہیں۔ جنگ مغربی ایشیا میں چل رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ خمیازہ ہمیں ہندوستان میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جو حکومت کہہ رہی تھی کہ ہماری تیاری پوری ہے، اسی حکومت نے اب ملک میں ’ایسنشیل کموڈیٹیز ایکٹ‘ نافذ کر دیا ہے۔ ابھی 10 دن پہلے تک حکومت ڈھنڈھورا پیٹ رہی تھی کہ ہمارے پاس ضروری تیل اور گیس کے اسٹاک ہیں۔ اگر ایسا تھا تو ای سی اے نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟‘‘


سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ حکومت کچھ بھی کھوکھلے دعوے کر لے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تمام علاقوں میں گیس اور تیل کی قلت دکھائی دے رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ممبئی میں تمام ہوٹل اور ریسٹورینٹ اس لیے بند ہو رہے ہیں کیونکہ کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی کمی ہو گئی ہے۔ بنگلورو ہوٹل ایسو سی ایشن نے کہا ہے کہ کمرشیل گیس کی سپلائی رکنے سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ چنئی اور حیدر آبادی تک کے کئی ریسٹورینٹس مالکان نے کہا کہ اگر گیس سپلائی جلد بحال نہیں ہوئی تو کھانا بنانے کا کام بند کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’پونے میں ایل پی جی کی کمی سے گیس کریمیٹوریم عارضی طور سے بند ہو گیا۔ گجرات میں گیس پر مبنی کئی صنعتیں بند ہونے سے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مہاراشٹر کے کچھ علاقوں میں پٹرول و ڈیزل کے لیے طویل قطاریں لگنے کی خبریں اور تصویریں آ رہی ہیں۔‘‘

موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’تیل کمپنیوں نے راشنننگ شروع کر دی ہے، ڈیلرس اور گیس ایجنسیوں کو گیس نہیں مل رہی ہیں۔ تمام ایسے لوگ جنھوں نے 10 دن قبل گیس کی بکنگ کی تھی، انھیں ابھی تک گیس کی ڈیلیوری نہیں ملی ہے۔ لوگ قلت کے اندیشہ سے فکر مند اور پریشان ہیں۔‘‘ حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے انھوں نے سوال کیا کہ ’’جو حکومت بار بار کہتی تھی کہ ہم کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اس حکومت کا اس قلت سے نمٹنے کا کیا منصوبہ ہے؟ کیونکہ اپوزیشن کو گالی دینے سے، نہرو جی کو کوسنے سے کام نہیں چلے گا۔ بحران کے اس وقت میں ایپسٹین کے دوست ہردیپ پوری کس بل میں چھپ گئے ہیں، کہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہے ہیں؟ ایپسٹین کا جو گینگ اس حکومت میں بھرا پڑا ہے، وہ کہاں دُبکا ہوا ہے؟‘‘


حکومت اور اس کے وزراء کے بدلتے ہوئے بیانات کا بھی سپریا شرینیت نے ذکری کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت نے پہلے کہا کہ ہمارے پاس 75 دنوں کا ایمرجنسی اسٹاک ہے، پھر حکومت کے وزیر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس صرف 25 دنوں کا اسٹاک ہے۔ کون درست ہے، کون غلط ہے یہ بھگوان ہی جانتا ہے۔‘‘ انھوں نے ایندھن سے متعلق کچھ ڈاٹا بھی سامنے رکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ہندوستان کا امپورٹیڈ خام تیل پر انحصار پچھلے 12 سالوں میں کافی بڑھ گیا ہے۔ 2014 میں یہ انحصار 77.6 فیصد تھا، جو کہ 2026 میں 88.6 فیصد ہو چکا ہے۔ یعنی انحصار میں 14.2 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ ہندوستان کا سالانہ گھریلو خام تیل پروڈکشن جو 2014 میں 37.8 ملین میٹرک ٹن تھا، وہ 2026 میں گھٹ کر 28 ملین میٹرک ٹن ہو گیا۔ یعنی گزشتہ 12 سالوں کے دوران پروڈکشن میں 26 فیصد کی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ ’’حکومت کی ناکامی اور بے حسی کا خمیازہ اس ملک کی معصوم عوام کیوں بھگتے؟‘‘

عوام کے تئیں مودی حکومت کے بے حسی بھرے رویہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ان کو کیا؟ انھوں نے تو کورونا میں بھی عوام سے تالی-تھالی بجوائی تھی۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے شمشانوں کو ترپال سے گھیر دیا تھا، اپنی ذمہ داری سے منھ موڑ کر گھوم گھوم کر انتخابی تشہیر کی تھی۔ اگر پھر سے کوئی آفت آئی تو یہ پھر سے وہی اداکاری کرنے لگیں گے، انھیں عوام کی تکلیف سے کیا لینا دینا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہماری میڈیا بحران سے نمٹنے کی تیاری پر سوال کرنے کی جگہ پاکستان میں ڈیزل-پٹرول کی کیا قیمت ہے، یہ بتا رہی ہے۔‘‘ ویڈیو کے آخر میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’آج لوگ مودی جی کے پرانے ٹریک ریکارڈ کو دیکھ کر خوفزدہ ہیں، لیکن حکومت کو اب بھی جملوں سے فرصت نہیں ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔