اندور میں آلودہ پانی سے اموات کی تعداد 18 ہوئی، انتظامیہ نے 15 متاثرہ خاندانوں کو دیا معاوضہ

اندور میں آلودہ پانی سے اموات کی تعداد 18 ہو گئی۔ انتظامیہ نے 15 متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا، باقی کو جلد ملے گا۔ اپوزیشن نے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جبکہ حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی اموات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی ہے۔ علاقے میں پینے کے پانی کی سپلائی میں آلودگی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ شدید بیمار پڑے، جن میں سے متعدد جانبر نہ ہو سکے۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریاستی حکومت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

اندور کے ضلع مجسٹریٹ شیوم ورما نے بتایا کہ میڈیا رپورٹس اور سرکاری ریکارڈ میں جن جن اموات کی تصدیق ہوئی ہے، ان تمام متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک 15 مرنے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دے دیا گیا ہے، جبکہ باقی تین متاثرین کے اہل خانہ کے بینک کھاتے کھلوائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں بھی جلد از جلد مالی مدد دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی واضح ہدایت ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ہر ممکن مدد فوری طور پر پہنچائی جائے۔

ضلع مجسٹریٹ کے مطابق جن مریضوں کی میڈیکل رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، ان کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور مزید رپورٹس کا انتظار ہے، جس کے بعد اموات کی اصل وجوہات کے بارے میں تصویر مزید واضح ہو سکے گی۔ ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ آلودہ پانی میں کون سے جراثیم یا کیمیائی عناصر شامل تھے جن کی وجہ سے یہ جان لیوا صورت حال پیدا ہوئی۔


ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے اس افسوسناک واقعے کے بعد مرنے والوں کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر تکنیکی کارروائیوں میں الجھنے کے بجائے انسانیت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، اسی لیے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کو سہارا فراہم کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ابتدائی طور پر انتظامیہ صرف 4 اموات کو تسلیم کر رہی تھی، تاہم میڈیکل رپورٹس اور حقائق سامنے آنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی۔ اس معاملے پر ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دو افسران کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے تھے۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے تین افسران کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا اور ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

ادھر اپوزیشن جماعتیں اس واقعے کو انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کی سنگین لاپرواہی قرار دیتے ہوئے مسلسل تنقید کر رہی ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ شیوم ورما نے متاثرہ علاقے کا دورہ کر کے نئی پائپ لائن کے کام کا جائزہ لیا اور کہا کہ پانی کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مسلسل سروے، صفائی اور پانی کے نمونے لینے کا عمل جاری ہے تاکہ حالات کو جلد معمول پر لایا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔