ہریانہ میں راجیہ سبھا انتخاب ’چوری‘ کرنے سے متعلق بی جے پی کی سازش ناکام ہو گئی: کانگریس
دیپیندر ہڈا کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے ’رات کی تاریکی‘ میں جمہوریت کا قتل کرنے کی واضح کوشش ہوئی۔ پہلے لالچ اور دھمکی کے ذریعہ اور پھر ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کا استعمال کر کے۔

ہریانہ سے راجیہ سبھا کی 2 سیٹوں کے لیے 16 مارچ کو ووٹنگ ہوئی، جس میں کافی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ پیر کی شب تقریباً 2 بجے اسمبلی احاطہ میں ماحول انتہائی گرم رہا نظر آیا، اور جب بی جے پی حامی آزاد امیدوار ستیش ناندل سے کانٹے کے مقابلہ میں کانگریس امیدوار کرم ویر بودھ کو کامیاب قرار دیا گیا، تو کانگریس لیڈران و کارکنان نے راحت کی سانس لی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بی جے پی نے آزاد امیدوار کو جیت دلانے کے لیے پورا زور لگا دیا تھا اور کانگریس کے کچھ ووٹوں پر اعتراض بھی ظاہر کر دیا تھا۔ کچھ کانگریس اراکین اسمبلی نے مبینہ طور پر کراس ووٹنگ بھی کی، اس لیے کانگریس میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس امیدوار کی فتح کے بعد کچھ لیڈران جذباتی بھی نظر آئے۔ روہتک سے کانگریس رکن اسمبلی بی بی بترا اور شاہ آباد کے رکن اسمبلی رام کرن کالا تو خوشی سے رو پڑے۔
اب اس پورے معاملہ میں ہریانہ سے کانگریس رکن پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہڈا نے آج پریس کانفرنس کر پارٹی کا موقف سامنے رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے ہریانہ میں راجیہ سبھا انتخاب چرانے سے متعلق بی جے پی کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ بی جے پی نے دھمکی، دباؤ اور لالچ جیسے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے، لیکن کانگریس کے اراکین اسمبلی نے ان کوششوں کو ناکام کر دیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ریٹرننگ آفیسر بھی جانبدار تھا اور آخری لمحہ تک کانگریس امیدوار کو ہرانے کی کوشش کرتا رہا۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کی جانب سے ’رات کی تاریکی‘ میں جمہوریت کا قتل کرنے کی واضح کوشش تھی۔ پہلے لالچ اور دھمکی کے ذریعہ اور پھر ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کا استعمال کر کے۔ اس پریس کانفرنس میں دیپیندر ہڈا کے علاوہ کانگریس ایس سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجندر پال گوتم بھی موجود تھے۔ انھوں نے بھی بی جے پی کو جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیا اور کہا کہ برسراقتدار طبقہ نے اپنا پورا زور لگایا، لیکن آخر میں جمہوریت کی جیت ہوئی۔
کانگریس لیڈران نے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو مبارکباد دی کہ انہوں نے ایک عام کارکن کرم ویر بودھ کو نچلی سطح سے اٹھا کر راجیہ سبھا تک پہنچایا۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے کرم ویر بودھ کو کمزور امیدوار قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ بی جے پی والے صرف امیروں اور اونچے طبقات کے امیدوار کو ہی مضبوط سمجھتے ہیں۔
اس موقع پر راجندرپال گوتم نے کہا کہ ’’مجھے بے حد خوشی ہے کہ کانگریس کی قیادت نے ایک سچے امبیڈکروادی کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنایا۔ بی جے پی کے تمام لیڈران کرم ویر بودھ جی کو ایک کمزور امیدوار بتا رہے تھے، کیونکہ بی جے پی کے لیے پیسے والے لوگ ہی مضبوط ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ کانگریس وہ پارٹی ہے جو ایک عام کارکن کو بھی راجیہ سبھا انتخاب میں لڑا سکتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جنھیں بی جے پی کے لوگ ایک کمزور امیدوار سمجھ رہے تھے، ان کے یے میرے پاس پورے ملک سے فون آ رہے تھے۔ لوگ ناراض تھے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی غلامی کیوں کر رہا ہے؟ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جمہوریت کا اغوا کرنا بی جے پی کا کردار بن گیا ہے، جس میں جمہوریت کا قتل کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔‘‘
دیپیندر ہُڈا نے انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی) پر بھی الزام لگایا کہ اس نے انتخاب کے دوران بی جے پی کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب آئی این ایل ڈی کو یقین ہو گیا کہ کانگریس دوسری نشست جیتنے والی ہے تو اس نے ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کا اعلان کیا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس موقع پر پارٹی کے اراکین اسمبلی کی وفاداری اور عزم کی تعریف کی جنہوں نے تمام دباؤ، دھمکیوں اور لالچ کے باوجود پارٹی کا ساتھ دیا اور بی جے پی کی سازش کو ناکام بنایا۔ ساتھ ہی ہڈا نے کہا کہ پارٹی ان اراکین اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جنہوں نے پارٹی سے غداری کی اور کراس ووٹنگ میں ملوث رہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ایسے لوگوں کو ریاست کی عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔
اس دوران راجندر پال گوتم نے جانچ ایجنسیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے پوچھا کہ ’’آج حکومت کی وہ جانچ ایجنسیاں کہاں ہیں، جو ہمیشہ اپوزیشن کے خلاف جھوٹے مقدمات کر ان کو گرفتار کرتی ہے؟ سوال ہے کہ ملک میں ہارس ٹریڈنگ کر آئین اور جمہوریت کا قتل کرنے والے آزاد کیوں ہیں؟‘‘ پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’جس ملک کا وزیر اعظم ہی کمپرومائزڈ ہو، اس سے امید ہی کیا کی جا سکتی ہے۔‘‘