قومی خبریں

الیکشن کمیشن کے خط پر بی جے پی کی مہر! کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے سخت سوالات، وضاحت بھی متنازع

الیکشن کمیشن کے ایک خط پر بی جے پی کی مہر سامنے آنے کے بعد کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ادارے کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے، جبکہ کمیشن نے اسے دفتری غلطی قرار دے کر کارروائی بھی کی

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرالہ میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل الیکشن کمیشن سے جڑا ایک تنازعہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کمیشن کی غیر جانبداری پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کیرالہ میں سی پی آئی ایم نے ایک دستاویز کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں الیکشن کمیشن کے نام سے جاری ایک خط پر کیرالہ بی جے پی کی مہر دکھائی دی۔ اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے جمہوری اداروں کی ساکھ کے لیے خطرہ قرار دیا۔

Published: undefined

کانگریس نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کے خط پر کسی سیاسی جماعت کی مہر کا ہونا محض ایک معمولی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین اشارہ ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک سیاسی جماعت کی مہر الیکشن کمیشن کے خط پر کیسے ظاہر ہوئی اور اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے سے ادارے کی غیر جانبداری اور اعتبار پر سوالیہ نشان لگتا ہے اور عوام کو اس کی مکمل وضاحت دی جانی چاہیے۔

Published: undefined

کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا یہ بھی کسی ’دفتری غلطی‘ کا نتیجہ ہے، جیسا کہ حکومت کے دیگر فیصلوں کو بتایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ محض ایک تکنیکی کوتاہی نہیں بلکہ ایک بڑی خرابی کی علامت ہو سکتا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے بھی اس معاملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اب تو یہ بات سرکاری طور پر تسلیم ہو گئی ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے تشویش ناک ہے۔

Published: undefined

ادھر دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات سے عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب جمہوری اداروں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنے لگیں تو خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہوتا۔

تنازعہ بڑھنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی، جس میں کہا گیا کہ یہ ایک محض دفتری غلطی تھی جسے فوری طور پر درست کر لیا گیا۔ کمیشن کے مطابق کیرالہ بی جے پی نے حال ہی میں ایک پرانی ہدایت نامے کی نقل جمع کرائی تھی، جس پر ان کی مہر لگی ہوئی تھی اور اسی دستاویز کو غلطی سے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھیج دیا گیا۔

Published: undefined

اس معاملے میں ذمہ داری طے کرتے ہوئے کیرالہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر میں تعینات ایک اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کو معطل کر دیا گیا ہے اور مزید جانچ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ اس طرح کی غلطیوں سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے، تاہم اپوزیشن جماعتیں اب بھی اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آ رہیں اور اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دے رہی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined