آر ایس ایس کو ’شرمندگی‘ سے بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کھیلا ’کھیل‘!
بہت سے لوگوں کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ ٹرسٹیوں کی ملی بھگت یا رضامندی کے بغیر عطیات اور فنڈز میں خرد برد ممکن تھی۔

ایودھیا کے ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کے فنڈز میں مبینہ خرد برد کے معاملہ میں 8 نچلے درجہ کے ملازمین اور ایک ریٹائرڈ بینکر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا تاخیر سے کیا گیا فیصلہ ان شبہات کی تصدیق کرتا ہے، جن کا اظہار بہت سے لوگوں نے کیا تھا۔ تمام ٹرسٹی آر ایس ایس سے وابستہ ہیں، لیکن فنڈز کے انتظام، حساب کتاب اور نگرانی میں ناکامی کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ کر کے، یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش حکومت نے 2 ممکنہ راستوں میں سے آسان راستہ اختیار کیا ہے اور آر ایس ایس کو شرمندگی سے بچا لیا ہے۔
اب لکھنؤ میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا یہ قدم یوگی کی اپنی سیاسی پوزیشن کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہوگا؟ مرکز اور یوگی حکومت کے درمیان غیر آرام دہ تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یوگی، جو آر ایس ایس سے تعلق نہیں رکھتے، نہ تو ٹرسٹ کے ارکان کی تقرری میں ان کا کوئی کردار تھا اور نہ ہی مندر کے نذرانے و عطیات یا تعمیراتی سرگرمیوں کے انتظام میں۔ اگر آر ایس ایس کے سینئر عہدیداروں کو غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے الزام میں گرفتار کیا جاتا تو وزیر اعلیٰ تنظیم کی ناراضگی مول لے سکتے تھے۔ اب دوسری طرف کروڑوں ہندوؤں کی نظر میں ان کی ساکھ متاثر ہونے کا خطرہ ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ ٹرسٹیوں کی ملی بھگت یا رضامندی کے بغیر عطیات اور فنڈز میں خرد برد ممکن تھی۔
2027 میں اتر پردیش اسمبلی الیکشن ہونے والا ہے۔ ایسے میں یوگی کے سامنے ایک مشکل انتخاب تھا اور مندر سے متعلق تنازعہ وہ آخری چیز تھی جس کی وزیر اعلیٰ خواہش کرتے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ کارروائی کرتے تب بھی تنقید کا سامنا کرتے اور اگر نہ کرتے تب بھی۔ لکھنؤ کے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ دونوں صورتوں میں انہیں سیاسی قیمت ادا کرنی پڑتی۔ آنے والے چند ہفتے یا مہینے بتائیں گے کہ یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
مبصرین کے مطابق آر ایس ایس کے ایک حلقہ کی جانب سے اس معاملے کو منظر عام پر لانے کا وقت، اور پھر بی جے پی کے قریب سمجھے جانے والے مشہور ہندی اخبار ’جاگرن‘ کی جانب سے اسے نمایاں انداز میں شائع کرنا، نیز بی جے پی اور آر ایس ایس کی معنی خیز خاموشی، سب کچھ مشکوک معلوم ہوتی ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ سنسنی خیز رپورٹس نہ تو فطری تھیں اور نہ ہی اتفاقی، بلکہ ان کا مقصد بعض ٹرسٹیوں کو پس منظر میں دھکیلنا اور ممکنہ طور پر مندر کے انتظام کو حکومت کے ہاتھوں میں دینے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد 2020 میں قائم ہونے والا ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ ان چند یا شاید واحد نجی ٹرسٹوں میں شامل ہے جو ایک ایسے نمایاں مندر کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں جہاں ہر سال کروڑوں عقیدت مند آتے ہیں۔ اس کے برعکس تروپتی، کاشی اور متھرا کے بڑے مندروں پر حکومتی نگرانی موجود ہے اور ان کی سربراہی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سی ای اوز اور کمشنرز کرتے ہیں۔ تاہم ایودھیا کا ٹرسٹ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد کے کنٹرول میں ہے، جنہوں نے 1989 سے قبل ہی بابری مسجد کے انہدام کے لیے سیاسی تحریک کی قیادت کی تھی۔
یہ ٹرسٹ ابتدا ہی سے تنازعات میں گھرا رہا ہے۔ 2020 میں ایک داخلی آڈٹ میں مشکوک طریقۂ کار اور ریکارڈ رکھنے کے ناقص نظام، خاص طور پر عطیات و نذرانے کے ریکارڈ سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ آڈٹ میں معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) نافذ کرنے کی سفارش کی گئی، لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ اس کے بعد 2021 میں ٹرسٹ پر الزام لگا کہ اس نے زمینیں ان قیمتوں سے کہیں زیادہ نرخوں پر خریدیں جن پر فروخت کنندگان نے اسی روز وہ زمین خریدی تھی۔ 2024 میں ایک جعلی ویب سائٹ کا معاملہ سامنے آیا جو مندر کا ’پرساد‘ پہنچانے کے جھوٹے وعدے پر رقم جمع کر رہی تھی۔ جون 2026 میں ٹرسٹ ایک نئے ’عطیہ اسکینڈل‘ کے مرکز میں ہے، جس میں الزام ہے کہ اندرونی افراد نے نقد عطیات، زیورات اور سونے چاندی کی اینٹوں کا ایک حصہ غبن کر لیا۔
اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات آڈٹ شدہ مالی حسابات، موصول ہونے والے عطیات، ادا کیے گئے ٹیکس اور آمدنی و اخراجات کی تفصیلات کی عدم موجودگی سے متعلق ہیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ سندھی عقیدت مندوں کی ایک تنظیم کی جانب سے دی گئی 200 چاندی کی اینٹوں جیسے نذرانے کی باقاعدہ رسیدیں جاری نہیں کی گئیں۔ اگرچہ یہ دعویٰ غیر متوقع محسوس ہوتا ہے، لیکن کئی مبینہ عطیہ دہندگان نے الزام لگایا ہے کہ انہیں درست رسیدیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک پرائیویٹ مذہبی ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر ہونے کے باعث اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آڈٹ شدہ حسابات محفوظ رکھے اور ضرورت پڑنے پر حکام کو پیش کرے۔ تاہم صورت حال مکمل طور پر غیر شفاف ہے اور آمدنی، اخراجات یا مالی حسابات سے متعلق کوئی عوامی ریکارڈ دستیاب نہیں جس تک عام عقیدت مند رسائی حاصل کر سکیں۔
معمول کے مطابق آر ایس ایس اس اسکینڈل پر خاموش ہے اور اس وقت بھی اس کی آواز سنائی نہیں دے رہی جب عقیدت مندوں کے مختلف حلقوں میں الزام تراشی جاری ہے۔ کروڑوں ہندو، جو رام کے نام پر بی جے پی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے، اب سوچنے پر مجبور ہیں کہ کہیں انہیں مفاد پرست عناصر نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال تو نہیں کیا۔ ایودھیا میں آر ایس ایس کے چند مقامی حامیوں کی اچانک خوشحالی بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی۔ اس تنازعہ نے ان اصل کارسیوکوں اور موجودہ انتظام سنبھالنے والوں کے درمیان خلیج کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو آج ایودھیا میں طاقت کے مرکز سمجھے جاتے ہیں۔
تحریک سے وابستہ کارسیوک سنتوش دوبے، جو 1990 میں پولیس فائرنگ کے دوران 4 گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے، 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام میں شامل شیو سینکوں میں سے تھے اور جیل بھی جا چکے ہیں۔ آج وہ شدید تلخی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’لوٹ مار 2002 سے جاری ہے، جب شیلا پوجن پروگرام کے دوران عطیہ کی گئی سونے، چاندی اور ہیروں سے جڑی اینٹوں کی چوری کا معاملہ سامنے آیا تھا۔‘‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ٹرسٹ کا ایک بھی رکن رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ سب آر ایس ایس کے لوگ ہیں اور انہوں نے ہر چیز پر قبضہ کر لیا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کے سابق پرنسپل سکریٹری اور ٹرسٹ کے قیام و تعمیراتی نگرانی کے ذمہ دار نریپیندر مشرا نے اس ماہ میڈیا انٹرویوز میں اعتراف کیا کہ واقعی ’لوٹ‘ اور ’ڈاکہ‘ پڑا ہے۔ مشرا، جو وزیر اعظم کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، مندر کے انتظام کو حکومتی تحویل میں دینے اور ایک سی ای او مقرر کرنے کے حامی بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر ایسا بیان نہیں دیا ہوگا۔
مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے قریب بعض مقامی افراد اور بڑی تعداد میں باہر سے آنے والے لوگ ایودھیا میں غیر معمولی طور پر خوشحال ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام عقیدت مندوں کے لیے مندر تک رسائی مشکل بنا دی گئی ہے، جبکہ چند بااثر افراد آسانی سے اندر باہر آ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق وی آئی پی درشن ایک ایسا نظام بن چکا ہے جس سے چند مخصوص لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ بہتر انتظام اور زیادہ شفافیت ہی عقیدت مندوں کا مندر ٹرسٹ پر اعتماد بحال کر سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
