ہریانہ کی راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے ووٹنگ سوالوں کے گھیرے میں، کانگریس صدر کھڑگے نے الیکشن کمیشن کو لکھا خط

کانگریس صدر کھڑگے نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر کہا ہے کہ انتخاب کی غیر جانبداری میں مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ فوراً اس طرح کی کوشش کو روکے اور انتخابی عمل ٹھیک کرے۔

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہریانہ کی 2 راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے ووٹنگ کا عمل انجام پا چکا ہے، اور تازہ ترین خبروں کے مطابق کچھ گھنٹوں کی رخنہ اندازی کے بعد ووٹ شماری بھی شروع ہو چکی ہے۔ لیکن ووٹ شماری کا عمل شروع ہونے سے قبل بی جے پی اور کانگریس کے درمیان کچھ ووٹوں کو لے کر سخت اعتراض ظاہر کیے گئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ووٹ شماری بیچ میں ہی روکنی پڑی، اور تقریباً 5 گھنٹے بعد دیر رات پھر سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ اس معاملہ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ملکارجن کھڑگے نے الیکشن کمیشن کو کط لکھ کر ہریانہ کی راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے ہوئی ووٹنگ معاملہ پر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے اس خط میں لکھا ہے کہ انتخاب کی غیر جانبدار میں مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ فوراً اس کوشش کو روکے اور انتخابی عمل کو ٹھیک کرے۔ انھوں نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ہمارے جائز ووٹرس یا ڈالے گئے ووٹوں کو نااہل نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہ واضح طور سے انتخابی عمل کو بدنام کرنے اور پٹری سے اتارنے کی ایک صاف کوشش ہے۔‘‘


کانگریس صدر نے اپنے خط میں الیکشن کمشنر سے ملاقات کا وقت بھی طلب کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ہم کانگریس لیڈر ڈاکٹر منو سنگھوی کی قیادت اور کئی سینئر لیڈران کے ایک وفد کے ذریعہ آپ سے ملنے کی گزارش کر رہے ہیں۔ خط میں انتخابی نتائج جاری ہونے سے قبل ملنے کے لیے وقت طلب کیا ہے۔ یہ خط ایوان میں چل رہی راجیہ سبھا انتخاب کی ووٹنگ کے درمیان لکھا گیا ہے۔ حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ووٹ کا عمل ختم ہونے کے بعد ووٹ شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آج رات ہی ہریانہ کی دونوں راجیہ سبھا سیٹوں کا نتیجہ برآمد ہو جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نے کانگریس کے 2 ووٹوں پر اپنا اعتراض ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے گورو گوتم اور کشن بیدی نے ان دونوں ووٹوں کو غلط ٹھہرایا ہے۔ کانگریس نے بھی ہریانہ حکومت میں وزیر انل وِج کے ووٹ پر اعتراض کیا ہے۔ تازہ ترین خبروں میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایک کانگریس رکن اسمبلی کا ووٹ رَد کر دیا ہے۔ دوسرے کانگریس رکن اسمبلی کے ووٹ سے متعلق ابھی صورت حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ جو حالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ تذبذب والے ہیں۔ ایک سیٹ پر تو بی جے پی امیدوار سنجے بھاٹیا کی جیت طے بتائی جا رہی ہے، دوسری سیٹ کے لیے کانگریس امیدوار کرم ویر بودھ اور بی جے پی حامی آزاد امیدوار ستیش ناندل کے درمیان مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے۔


اس سے قبل راجیہ سبھا انتخاب کی گنتی روکے جانے پر ہریانہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا تھا کہ گنتی شروع کرنے سے قبل الیکشن کمیشن سے اجازت لینی ہوگی۔ دوسری طرف ہریانہ بی جے پی صدر موہن لال بڑولی نے کہا کہ ’’لگتا ہے ہریانہ کی اس ووٹنگ میں کوئی چمتکار ہوگا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخاب غیر جانبدار طریقے سے ہونے چاہئیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر کسی نے کسی بھی طرح سے غلطی کی ہے، تو ان کی غلطیوں کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ ورون چودھری کا بیان بھی کانگریس کے 2 ووٹوں پر اعتراض سے متعلق سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’جھوٹے الزام عائد کیے جا رہے ہیں۔ یہ الزام غلط ہے کہ کانگریس اراکین اسمبلی نے اپنے ووٹ دکھائے ہیں۔ ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ انھوں نے اپنا ووٹ کسی کو نہیں دکھایا۔ ایک دباؤ بنایا جا رہا ہے تاکہ گڑبڑی کی جا سکے۔ بی جے پی کو جمہوریت میں بھروسہ نہیں ہے، تعداد کو وہ مانتے ہی نہیں، زبردست تھوپنا چاہتے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔