آئرلینڈ نے کرکٹ کے میدان میں ہندوستان کو پہلی بار دی شکست، پہلے ٹی-20 مقابلہ میں 34 رنوں سے ہرایا

پہلے میچ میں شکست کے بعد ہندوستان کے لیے 2 میچوں کی ٹی-20 سیریز جیتنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ٹیم اگر اپنا دوسرا میچ جیت بھی جاتی ہے تو سیریز 1-1 سے ڈرا ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>پہلے میچ میں ہی پلیئر آف دی میچ ایوارڈ جیتنے والے آئرلینڈ کے کھلاڑی میتھیو ہولارڈ، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/cricketireland">@cricketireland</a></p></div>
i

ایک جانب ٹی-20 عالمی کپ چمپئن ہندوستانی ٹیم تھی اور دوسری جانب نسبتاً انتہائی کمزور سمجھی جانے والی بارہویں رینک کی آئرلینڈ کی ٹیم، اور پھر وہ ہوا جس کے بارے میں شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا۔ بیلفاسٹ میں کھیلے گئے پہلے ٹی-20 میچ میں آئرلینڈ نے ہندوستان کو 34 رنوں سے شکست دے دی۔ آئرلینڈ کے لیے یہ تاریخی جیت ہے، کیونکہ آئرلینڈ نے بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی بار ہندوستان کو ہرایا ہے۔ آئرلینڈ کی فتح کے ہیرو اس کے کپتان لورکن ٹکر اور اس کے گیند باز رہے۔ اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے میتھیو ہولارڈ اور جے موندڑا نے مل کر ہندوستانی ٹیم کے نصف بلے بازوں کو پویلین لوٹا دیا۔ نتیجتاً ہندوستانی ٹیم پہلا ٹی-20 میچ ہار گئی اور اب وہ 2 میچوں کی سیریز اب جیت نہیں پائے گی۔ پہلے میچ میں شکست کے بعد ہندوستان کے لیے 2 میچوں کی ٹی-20 سیریز جیتنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ٹیم اگر اپنا دوسرا میچ جیت بھی جاتی ہے تو سیریز 1-1 سے ڈرا ہوگی۔

ہندوستان کی اس شکست میں ہندوستانی گیندبازوں اور بلے بازوں دونوں کی ہی خراب کارکردگی دیکھنے کو ملی۔ چند ایک کھلاڑیوں کو چھوڑ دیا جائے تو سبھی کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ عمومی طور پر ہندوستان کی اس شکست کی 5 بڑی وجوہات نظر آتی ہیں۔ آئیے، آپ کو بتاتے ہیں کہ دنیا کی نمبر ایک ٹی-20 ٹیم ہندوستان کس طرح آئرلینڈ جیسی ٹیم سے ہار گئی۔ آخر 182 رنوں کے ہدف کے جواب میں ہندوستانی ٹیم صرف 148 رنوں پر کیوں سمٹ گئی؟


پہلی وجہ:

ہندوستان کی شکست کی سب سے بڑی وجہ بیلفاسٹ کی وکٹ رہی، جو دوسری اننگز میں کافی بدل گئی۔ دوسری اننگز میں وکٹ پر گیند گرفت حاصل کرنے لگی اور پچ پر لگنے کے بعد رکنے لگی۔ نتیجتاً گیند بلے پر اچھی طرح نہیں آ رہی تھی اور ہندوستانی بلے باز اس صورتحال میں الجھ کر رہ گئے۔

دوسری وجہ:

ابھشیک شرما کے علاوہ کسی بھی بلے باز نے کھل کر کھیلنے کی کوشش نہیں کی۔ سنجو سیمسن، ایشان کشن اور شریئس ایئر جیسے بلے باز ناکام ثابت ہوئے۔ تلک ورما بھی ایک انتہائی خراب شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔


تیسری وجہ:

آئرلینڈ کے گیند بازوں نے وکٹ کو بہت اچھی طرح سمجھا۔ خاص طور پر ڈیبیو کرنے والے 2 تیز گیند باز جے موندڑا اور میتھیو ہولارڈ نے ہندوستانی بلے بازوں کو سخت پریشان کیا۔ ہولارڈ نے 2 اور موندڑا نے بھی 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بائیں ہاتھ کے اسپنر ہمفریز نے 38 رن دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

چوتھی وجہ:

ہندوستان کی گیند بازی بھی انتہائی ناقص رہی۔ خاص طور پر پرسدھ کرشنا نے آئرلینڈ کو بڑا اسکور بنانے میں بھرپور مدد دی۔ انہوں نے اپنے 4 اوورز میں 57 رن دے ڈالے۔ واشنگٹن سندر نے بھی ایک ہی اوور میں 19 رن لٹائے۔


پانچویں وجہ:

ہندوستان کی فیلڈنگ بھی بہت خراب رہی۔ ہندوستانی ٹیم نے مجموعی طور پر 3 کیچ چھوڑے۔ ان میں ایک کیچ ابھشیک شرما نے چھوڑا جو گیرتھ ڈیلانی کا تھا۔ اس وقت ڈیلانی صرف ایک رن پر تھے اور انہیں زندگی مل گئی۔ بعد میں اسی کھلاڑی نے 32 گیندوں پر 49 رن کی اہم اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔