
آئی اے این ایس
بھونیشور: کانگریس نے منگل کو اوڈیشہ نوا نرمان کسان سنگٹھن کی جانب سے 28 جنوری کو دیے گئے اوڈیشہ بند کے اعلان کی کھلے طور پر حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سنگٹھن کا الزام ہے کہ ریاست میں دھان کی خریداری کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں، اسمارٹ میٹر کی تنصیب میں بدنظمی ہے اور آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ، یعنی پی یو سی سی، کے نام پر کسانوں اور عام لوگوں سے غیر معمولی جرمانے وصول کیے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے مطابق یہ تمام مسائل براہ راست عوام کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں اور ریاستی حکومت ان پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
Published: undefined
اوڈیشہ پردیش کانگریس کمیٹی نے اپنے ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ پارٹی اس بند کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسان پہلے ہی مہنگائی، کھاد، بیج اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں، ایسے میں دھان کی خرید میں رکاوٹیں اور جرمانوں کا بوجھ کسانوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ پارٹی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ 150 کوئنٹل سے زیادہ دھان فروخت کرنے والے کسانوں کو ان پٹ سبسڈی سے محروم کیا جا رہا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
پی سی سی صدر بھکت چرن داس نے تمام ضلع کانگریس کمیٹیوں، کارکنان اور حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 28 جنوری کے بند کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تعاون کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بند کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ کسانوں اور عوام کے جائز حقوق کے لیے ہے۔ کانگریس نے یقین دلایا کہ احتجاج پرامن رہے گا اور عام لوگوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔
Published: undefined
ادھر بیجو جنتا دل نے بھی اس بند کو مثبت قدم قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان لینن موہنتی نے کہا کہ یہ بند کسان برادری کے درد اور ناراضگی کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیجو جنتا دل پہلے ہی 2 سے 17 فروری تک ریاست گیر احتجاج اور 24 فروری کو بھونیشور میں ایک بڑی ریلی کی منصوبہ بندی کر چکی ہے، جس میں دھان کی خرید اور قانون و انتظام کے مسائل کو اٹھایا جائے گا۔
نوا نرمان کسان سنگٹھن کے قومی کنوینر اکشے کمار نے میڈیا کو بتایا کہ 28 جنوری کو صبح 6 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بند رہے گا۔ اس دوران دھان منڈیوں میں جاری بے ضابطگیوں اور پی یو سی سی کے نام پر عائد اضافی جرمانوں کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریلوے، اسپتال اور ایمبولینس جیسی ضروری خدمات بند سے متاثر نہیں ہوں گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined