عرب ممالک میں جنگ کا خوف، لاکھوں کی ملازمت چھوڑ واپس ہندوستان لوٹ رہے لوگ!
مشرقِ وسطیٰ میں حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ ہندوستانی شہری اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران اپنے طویل مدتی کیریئر کے منصوبوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔

خلیجی ممالک میں مسلسل گہراتے ہوئے جنگی بحران نے وہاں کام کر رہے ہندوستانی پیشہ ور افراد کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ دہائیوں سے جس مشرق وسطیٰ کو کیریئر اور شاندار مستقبل کے لیے دنیا کا سب سے محفوظ ٹھکانہ مانا جاتا تھا اب وہاں خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ ہندوستانی شہری اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران اپنے طویل مدتی کیریئر کے منصوبوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ ان کے لیے اب سب سے بڑی ترجیح کسی بھی طرح اپنے ملک یعنی ہندوستان لوٹنا ہے۔
حالیہ جغرافیائی سیاسی انتشار مشرق وسطیٰ کے اس پرامن اور مستحکم تصویر کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ملک کی معروف سرچ ایگزیکٹو سرچ فرموں کے اعداد و شمار اس بڑی تبدیلی کی واضح گواہی دے رہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ہی خلیجی ممالک میں مقیم سینئر افسران کے ذریعہ ہندوستان میں ملازمت تلاش کرنے کی پوچھ تاچھ میں 25 سے 30 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔
ٹرانس سرچ انڈیا کے مینیجنگ پارٹنر اتل ووہرا کے مطابق موجودہ جنگ نے مشرق وسطیٰ کے ’سیف ہیون‘ (محفوظ پناہ گاہ) ہونے کے تصور کو مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔ لوگ اب اپنی اور اپنے خاندان کے تحفظ کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی ایک واضح مثال توانائی کے شعبے کے ایک سینئر افسر کی ہے، جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی ہندوستان میں ’چیف آپریٹنگ آفیسر‘ کا عہدہ ٹھکرا دیا تھا، لیکن جنگ شروع ہوتے ہی انہوں ںے خود ریکروٹمنٹ فرم سے رابطہ کیا۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ اس خطے میں اب انہیں خاندان کا مستقبل محفوظ نظر نہیں آتا۔ کئی دیگر انرجی کمپنیوں کے اعلیٰ افسران بھی یا تو اپنی کمپنی کے ہندوستانی آپریشن میں تبادلہ کا مطالبہ کر رہے ہیں یا باہر نئی ملازمتیں تلاش کر رہے ہیں۔
’اکنامک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق خوف اور غیر یقینی کا ماحول صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے۔ قطر میں ایک ملٹی نیشنل ٹیک کمپنی میں کام کرنے والے مڈ-لیول پروفیشنل نے ہندوستان میں ملازمتیں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ ہندوستان میں موجود ان کے بزرگ والدین وہاں کی حالت دیکھ کر بے حد گھبرائے ہوئے ہیں۔ دبئی میں رہنے والے کئی خاندان بھی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ شہریوں کو بار بار الرٹ بھیجا جا رہا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور بالکونی یا کھڑکیوں سے دور رہیں۔
ای ایم اے پارٹنرس انڈیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے سدرشن نے اس نفسیاتی اثر کا گہرائی سے ذکر کیا۔ چند روز قبل ہی دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک دھمکی آمیز الرٹ کے بعد بحفاظت نکالا گیا تھا۔ جمعہ کو ہی اس مالیاتی مرکز پر ایرانی ڈرون کا ملبہ گرا۔ جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر لوگوں کی نفسیات پر پڑتا ہے۔ حالانکہ کچھ لوگوں کو امید ہے کہ آئندہ 14-10 دنوں میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن سیکورٹی کے حوالے سے دل میں جو خوف بیٹھ گیا ہے وہ آسانی سے جانے والا نہیں ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔