مشرق وسطی کشیدگی: دہلی سے خلیجی ممالک کے لیے 100 سے زائد پروازیں منسوخ، مسافر پریشان
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث دہلی سے خلیجی ممالک جانے والی 100 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد کم ہو گئی ہے اور لوگ امن کی دعا کر رہے ہیں

نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات ہندوستان کی فضائی خدمات پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ مغربی سمت جانے والی متعدد بین الاقوامی پروازوں میں تاخیر اور شیڈول میں تبدیلی کے بعد منگل کو دہلی سے خلیجی ممالک کے لیے سو سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمینل تین پر مسافروں اور ان کے استقبال کے لیے آنے والے افراد کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے مہمانوں کو لینے آئے خرم شاہجہاں نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ متعدد مہمانوں کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پہنچے تھے، تاہم ریزرویشن کاؤنٹر پر انہیں مطلع کیا گیا کہ فی الحال کوئی نیا ٹکٹ جاری نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ صبح کچھ پروازیں روانہ تو ہوئیں، مگر بعد میں واپس لوٹ آئیں۔ فی الوقت خلیجی ممالک کے لیے کوئی بھی طیارہ پرواز نہیں کر رہا۔
دبئی، دوحہ، کویت اور بحرین جانے والی تمام پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسافروں کے مطابق کسی کے پاس یہ واضح جواب نہیں کہ حالات کب معمول پر آئیں گے۔ عملے نے عندیہ دیا ہے کہ آج، کل یا پانچ تاریخ کے بعد صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، لیکن حتمی تاریخ کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ کئی مسافروں کو پرواز کی منسوخی کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، مگر نئی بکنگ یا متبادل انتظامات کے بارے میں کوئی یقینی اطلاع دستیاب نہیں۔
ایک خاتون مسافر نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ ان کی پرواز منسوخ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے فضائی حدود اور مسافروں کی سلامتی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم انسانی جان ہے اور وہ یہی چاہتی ہیں کہ کشیدگی جلد ختم ہو، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث نہ صرف سفری منصوبے متاثر ہوئے ہیں بلکہ فضائی کمپنیوں کو بھی غیر معمولی انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ مسافر اب حالات کے معمول پر آنے کے منتظر ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو تاکہ پروازوں کا سلسلہ بحال ہو سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔