مشرق وسطیٰ کی جنگ سے ہوائی سفر ہوا مہنگا، ایئر انڈیا نے ’فیول سرچارج‘ بڑھانے کا کیا اعلان

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب ہوائی ایندھن کافی مہنگا ہو گیا ہے۔ اسی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایئر انڈیا گروپ نے اپنی پروازوں پر فیول سرچارج بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر انڈیا علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے سبب ہوائی ایندھن کافی مہنگا ہو گیا ہے، جس کا اثر اب ہوائی سفر کرنے والوں کی جیب پر پڑنے والا ہے۔ ایندھن میں بڑھی ہوئی قیمت کا بوجھ کم کرنے کے مقصد سے ایئر انڈیا گروپ نے اپنی پروازوں پر فیول سرچارج بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اس قدم کے بعد ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس کی گھریلو اور بین الاقوامی دونوں طرح کی پروازوں کے ٹکٹ مہنگے ہو جائیں گے۔ یہ اضافہ ایک ساتھ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ 3 الگ الگ مراحل میں اس کا نفاذ ہوگا۔

دراصل مشرق وسطیٰ بحران کے سبب ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایئرلائنس کے مجموعی خرچ کا تقریباً 40 فیصد حصہ ایندھن پر خرچ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اے ٹی ایف پر زیادہ ایکسائز ڈیوٹی اور ویٹ ہونے سے ایئرلائنس کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ایئر انڈیا نے فیصلہ کیا کہ ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے فیول سرچارج بڑھایا جائے، جس کا نفاذ 3 مراحل میں ہوگا۔


پہلا مرحلہ: 12 مارچ سے (نئی بکنگ پر نافذ)

  • گھریلو فلائٹ: 399 روپے

  • سار ممالک کے لیے: 399 روپے

  • مغربی ایشیا/مشرق وسطیٰ: 10 ڈالر

  • جنوب مشرقی ایشیا: 40 ڈالر سے بڑھ کر 60 ڈالر

  • افریقہ: 60 ڈالر سے بڑھ کر 90 ڈالر

  • سنگاپور روٹ: اب تک سرچارج نہیں تھا، لیکن پہلے مرحلہ سے نافذ ہوگا

دوسرا مرحلہ: 18 مارچ سے

  • یوروپ: 100 ڈالر سے بڑھ کر 125 ڈالر

  • نارتھ امریکہ: 150 ڈالر سے بڑھ کر 200 ڈالر

  • آسٹریلیا: 150 ڈالر سے بڑھ کر 200 ڈالر


تیسرا مرحلہ:

ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے سرچارج کی جانکاری بعد میں دی جائے گی۔ 12 اور 18 مارچ سے پہلے بکنگ کیے گئے ٹکٹ پر نیا سرچارج نہیں لگے گا، لیکن اگر ٹکٹ کی تاریخ یا روٹ میں تبدیلی کی گئی تو نیا کرایہ اور سرچارج نافذ ہو سکتا ہے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب یہ قدم ضروری ہے، ورنہ کچھ پروازوں کو چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔