
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے دعوی کیا ہے کہ اس ہفتے سامنے آنے والا انکشاف ’’ پیگاسس اسپائی ویئر اسکینڈل‘‘سابق امریکی صدر نکسن کے دور میں سامنے آنے والا’’واٹر گیٹ اسکینڈل ‘‘ سے بھی بدترین ہے۔یہ ایمرجنسی سے بدترین ہے۔انہوں نے سیول سوسائٹی ، طلباء ، میڈیا سے وابستہ افراد سے ’’اسپائی ویئر ‘‘کے غلط استعمال کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے کہا کہ جب پرشانت کشور کے فون کی نگرانی کی جارہی تھی تو اس کامطلب ہے کہ پرشانت کشور کے ساتھ میری گفتگو اور میٹنگوں کی بھی نگرانی کی جاتی تھی۔اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اب مزید محتاط رہنا ہوگا۔ممتا بنرجی نے ریاستی سکریٹریٹ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ پیگاسس واٹر گیٹ اسکینڈل سے بھی بدتر ہے ، یہ ایک بہت بڑی ہنگامی صورتحال ہے۔’’واٹر گیٹ اسکینڈل میں ابتدائی طور پر واشنگٹن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کی نگرانی کی جاتی تھی مگر بعد میں اس کا دائرہ کار میں وسعت آگئی تھی۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نےکہا کہ بی جے پی کے نظریاتی سرپرست آر ایس ایس کی بھی جاسوسی کی جارہی تھی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت کو اپنے ہی افسروں اور وزراء پر بھی اعتماد نہیں کرتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ آر ایس ایس کے متعدد افراد کے فون بھی ٹیپ کئے گئےہیں ۔
Published: undefined
ایک اسرائیلی کمپنی کے تیار کردہ پیگاسس ا سپائی ویئر کو مبینہ طور پر سیکڑوں افراد کے موبائل فون کوٹیپ کرنے کےلئے استعمال کیا گیا تھا۔جس میں صحافی ، حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں کے لیڈران کے علاوہ بیوروکریٹس شامل ہیں ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کے دفتر میں پی کے (پرشانت کشور)کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کی تفصیلات بھی ان لوگوں کو معلوم تھیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ اگر کسی شخص کا فون نگرانی میں ہے تو ا س کا مطلب ہے کہ جو شخص ان سے بات کرے گا وہ بھی نگرانی میں ہیں ۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے وزیر اعظم کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں ، اور عدلیہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"اپنے فون کے اسپیکر پر لیوپلاسٹ چسپاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ ایک علامتی احتجاج ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف سیول سوسائٹی، طلبا اور تمام افراد کو اس کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined