سپریم کورٹ میں واٹس ایپ اور میٹا کی سخت سرزنش، پرائیویسی پالیسی کو گمراہ کن قرار دیا

سپریم کورٹ نے واٹس ایپ اور میٹا کی 2021 پرائیویسی پالیسی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے صارفین کی نجی زندگی اور باخبر رضامندی پر کسی بھی سمجھوتے سے انکار کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 9 فروری کو ہوگی

واٹس ایپ / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ اور اس کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی 2021 کی پرائیویسی پالیسی کے معاملے پر سخت ریمارکس کے ساتھ کڑی سرزنش کی۔ عدالت میں اس پالیسی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی ’استحصالی‘ نوعیت کی ہے کیونکہ اس کے تحت نہ صرف صارفین کا ڈیٹا شیئر کیا جاتا ہے بلکہ اسے تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی میں صارفین کی حقیقی رضامندی شامل نہیں اور عام آدمی اس کی باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی کمپنی ہندوستان کے آئین اور یہاں کے قوانین کی پاسداری نہیں کر سکتی تو اسے یہاں کاروبار کرنے کا حق بھی حاصل نہیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کسی بھی صورت شہریوں کی پرائیویسی پر سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کو نہایت چالاکی سے تیار کیا گیا دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام صارف کو گمراہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایک غریب بزرگ خاتون، سڑک کنارے ریڑھی لگانے والی عورت یا صرف تمل زبان بولنے والی خاتون اس پالیسی کے پیچیدہ نکات کیسے سمجھ پائے گی، یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔


چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کمپنیاں ہندوستان میں خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں، نہ کہ صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے شیئر یا فروخت کرنے کے لیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات عدالت کو بھی واٹس ایپ کی پالیسی سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، تو پھر دیہی علاقوں میں رہنے والے عام لوگ اس کے مضمرات کیسے جان سکیں گے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی نجی زندگی اور باخبر رضامندی کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کی جا سکتی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ڈیٹا اور اشتہارات کے تعلق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک ذاتی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ڈاکٹر واٹس ایپ پر دو یا تین دواؤں کے نام بھیجتا ہے تو چند ہی منٹوں میں انہی دواؤں سے متعلق اشتہارات نظر آنے لگتے ہیں، جو ڈیجیٹل نگرانی اور صارفین کے رویوں کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جسٹس جوئے مالیا باگچی نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی پی ڈی پی ایکٹ بنیادی طور پر پرائیویسی کی بات کرتا ہے، مگر یہاں مسئلہ صارفین کی رویہ جاتی عادات اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کے استعمال کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی بڑی ٹیک کمپنیوں پر سخت، جدید اور مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

واٹس ایپ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کمپنی نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو دیگر ممالک کے قوانین کے مطابق ڈھال لیا ہے، تاہم اس دلیل کے باوجود سپریم کورٹ مطمئن نظر نہیں آئی۔ عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کے لیے وقت دیا اور معاملہ تین ججوں کی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے بھیج دیا۔ اس کیس کی اگلی سماعت 9 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔


یہ معاملہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ مقابلہ جاتی کمیشن نے نومبر 2024 میں واٹس ایپ پر 213 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ کمیشن کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے اپنی غالب حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ بعد ازاں جنوری 2025 میں این سی ایل اے ٹی نے غالب حیثیت کے غلط استعمال کے نتیجے کو تو ہٹا دیا، لیکن جرمانہ برقرار رکھا۔ اسی تضاد کو چیلنج کرتے ہوئے میٹا نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔