تمل ناڈو-کرناٹک آبی تنازعہ: سپریم کورٹ کا ایک ماہ میں ٹربیونل قائم کرنے کا مرکزی حکومت کو حکم
کنڑ میں پینیار ندی کو ’دکشینا پیناکینی‘ کہا جاتا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے 2018 میں کرناٹک حکومت اور مرکزی حکومت کے خلاف اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک معاملہ دائر کیا تھا۔

تمل ناڈو اور کرناٹک کے درمیان ’پینیار‘ ندی کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ کا معاملہ عدالت نے صاف کر دیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ایک ماہ کے اندر آبی تنازعہ کے متعلق ٹریبونل تشکیل دیا جائے۔ اس معاملے میں جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے ہدایت دی ہے۔ عدالت نے تمل ناڈو کے ذریعہ کرناٹک کے خلاف دائر 2018 کے مقدمے میں یہ ہدایت دی ہے۔
کنڑ میں پینیار ندی کو ’دکشینا پیناکینی‘ کہا جاتا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے 2018 میں کرناٹک حکومت اور مرکزی حکومت کے خلاف اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک معاملہ دائر کیا تھا۔ تمل ناڈو نے دعویٰ کیا ہے کہ ندی کے اوپری حصے کے متعلق کرناٹک حکومت کی طرف سے لیے گئے فیصلوں سے ندی کے نچلے حصے میں واقع تمل ناڈو میں پانی کے بہاؤ کا برا اثر پڑا ہے۔
مرکز نے پہلے مشورہ دیا تھا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان وزارتی سطح کی میٹنگوں کے ذریعہ سے مسائل کو حل کیا جائے، تمل ناڈو نے معاملے کو نمٹانے کے لیے ایک ٹریبونل کی تشکیل پر زور دیا۔ نومبر 2023 میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مرکز اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ نومبر 2022 میں عدالت نے بات چیت کے ذریعہ تنازعہ کو حل کرنے میں تاخیر کے لیے حکومت کو پھٹکار لگائی تھی۔ اس سے قبل جنوری 2019 میں عدالت نے تمل ناڈو ریاست کو اس مشکل مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹریبونل کی تشکیل کی اجازت دی تھی۔ 2023 میں مرکزی وزارت آبی توانائی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی کابینہ نے اب تک پینیار آبی تنازعہ ٹریبونل کی تشکیل کی تجویز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ حالانکہ تجویز کو کابینہ سکریٹریٹ کے ذریعہ منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے۔ عدالت نے دسمبر 2025 میں اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سینیئر وکیل وی کرشنامورتی اور پی ولسن نے تمل ناڈو حکومت کی نمائندگی کی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔