وحیدہ رحمن: حسن، وقار اور قدرتی اداکاری کی لازوال مثال

وحیدہ رحمن نے قدرتی اداکاری، خاموش تاثرات اور وقار سے ہندی سینما کو نئی شناخت دی۔ پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر، یادگار فلمیں اور اعلیٰ اعزازات انہیں لازوال بناتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

یو این آئی

ہندی سینما کی تاریخ میں چند ہی نام ایسے ہیں جنہوں نے حسن، وقار اور اداکاری کے فطری حسن کو ایک ساتھ زندہ رکھا، اور ان میں وحیدہ رحمٰن نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی اداکاری میں نہ بناوٹ تھی، نہ غیر ضروری ڈرامائیت؛ بلکہ آنکھوں کی جنبش، خاموشی کے وقفے اور چہرے کے لطیف تاثرات سے وہ کردار کو مکمل معنویت عطا کر دیتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی اداکاری کے بڑھتے رجحان میں بھی وحیدہ رحمن کا فن آج تک تازہ اور مؤثر محسوس ہوتا ہے۔

3 فروری 1938 کو پیدا ہونے والی وحیدہ رحمن نے فلمی دنیا میں قدم ایک رقاصہ کے طور پر رکھا، مگر جلد ہی ان کی فنی صلاحیتوں نے انہیں محض رقص تک محدود نہ رہنے دیا۔ تیلگو فلم روجولو مارائی اور تمل فلم علی باباوم 40 تھرودارگلم میں ان کی موجودگی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ کیمرے کے سامنے ایک غیر معمولی کشش رکھتی ہیں۔ کم عمری ہی میں ان کی سنجیدہ اداکاری، کردار کی گہرائی اور نرم جذباتی اظہار نے ناقدین کو متوجہ کیا۔

ان کے فلمی سفر میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب معروف ہدایت کار گرو دت کی نظر ان پر پڑی۔ گرو دت نے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو پہچانا بلکہ انہیں ہندی سینما کے یادگار کردار بھی دیے۔ فلم سی آئی ڈی میں کامنی کے کردار سے لے کر پیاسا میں ایک طوائف کے پُراثر کردار تک، وحیدہ رحمن نے ہر روپ میں خود کو منوایا۔ پیاسا کو آج بھی ہندی سینما کی عظیم ترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ان کی خاموش آنکھیں اور دبی ہوئی مسکراہٹیں کہانی سے زیادہ طاقتور محسوس ہوتی ہیں۔

اس کے بعد کاغذ کے پھول، چودھویں کا چاند اور صاحب بی بی اور غلام جیسی فلموں نے ان کے فن کو مزید نکھارا۔ خاص طور پر صاحب بی بی اور غلام میں اگرچہ وہ معاون کردار میں تھیں، مگر ان کی موجودگی فلم کے تاثر کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ فلم بین الاقوامی سطح پر بھی سراہي گئی اور برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں گولڈن بیئر کے لیے نامزد ہوئی۔


1960 کی دہائی میں وحیدہ رحمن نے مختلف النوع کرداروں کے ذریعے اپنی وسعت ثابت کی۔ فلم گائیڈ میں ایک آزاد خیال عورت روزی کا کردار ان کے کیریئر کا سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس فلم پر انہیں بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا اور ناقدین نے اسے ان کی زندگی کی بہترین پرفارمنس قرار دیا۔ نیل کمل میں بھی انہوں نے جذباتی گہرائی کے ساتھ اداکاری کی اور ایک بار پھر فلم فیئر ایوارڈ اپنے نام کیا۔ جبکہ ریشما اور شیرا میں قبائلی عورت کے کردار پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔

1970 کی دہائی کے بعد انہوں نے معاون کرداروں کو ترجیح دی، مگر یہاں بھی ان کی موجودگی محض پس منظر تک محدود نہ رہی۔ یش چوپڑہ کی فلموں کبھی کبھی، چاندنی اور لمحے میں وہ وقار اور سنجیدگی کی علامت بن کر ابھریں۔ ترشول اور مشعل جیسی فلموں میں بھی ان کے کردار مضبوط اور یادگار رہے۔

وقت کے ساتھ انہوں نے فلموں میں وقفے وقفے سے کام کیا، مگر جب بھی اسکرین پر آئیں، ناظرین کو یہ احساس ہوا کہ اصل اداکاری کیا ہوتی ہے۔ واٹر، رنگ دے بسنتی اور دہلی-6 جیسی سماجی موضوعات پر مبنی فلموں میں ان کی موجودگی نے کہانی کو اخلاقی وزن عطا کیا۔

اعزازات کی بات کی جائے تو وحیدہ رحمن کو ایک نیشنل فلم ایوارڈ، تین فلم فیئر ایوارڈز، 1972 میں پدم شری، 2011 میں پدم بھوشن اور 2021 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ہندی سینما کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ مگر ان کے لیے اصل انعام ناظرین کی وہ محبت ہے جو دہائیوں بعد بھی قائم ہے۔

اداکاری کے علاوہ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہیں۔ تعلیم کے فروغ اور غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے وابستگی نے ان کی شخصیت کو مزید معتبر بنایا۔ وحیدہ رحمن آج بھی اس بات کی مثال ہیں کہ فن اگر سچائی اور سادگی کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ وقت کی گرد سے محفوظ رہتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔