بی جے پی ’ایس آئی آر‘ کے ذریعے ناخواندہ اور غریبوں سے حق رائے دہی چھیننے کی سازش کر رہی ہے: ریونت ریڈی
’ون نیشن ون الیکشن‘ کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ یہ ملک میں ’ایک شخص، ایک پارٹی‘ لانے کی کوشش ہے۔

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی کا ایجوکیشنل سرٹیفکیٹ سامنے نہیں آیا ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے شروع کیے گئے ایس آئی آر عمل کے دوران ان پڑھ (ناخواندہ) اور غریبوں سے کئی دستاویز مانگے جا رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے یہ بات ایک تقریب میں کہی جہاں انہوں نے آنجہانی سی پی آئی لیڈر روی نارائن ریڈی کی یاد میں قائم کردہ ایوارڈ سپریم کورٹ کے سابق جج بی سدرشن ریڈی کو پیش کیا۔
ریونت ریڈی نے فون ٹیپنگ معاملے میں اپنے صدر کے چندرشیکھر راؤ کی تحقیقات کی مخالفت کرنے پر بی آر ایس کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ ’ون نیشن ون الیکشن‘ کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ملک میں ’ایک شخص، ایک پارٹی‘ لانے کی کوشش ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں آئین کو ہٹانے کے لیے 400 سیٹیں مانگی تھیں۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد، پارٹی اب ایس آئی آر کے ذریعہ ان پڑھ اور غریبوں کے ووٹ دینے کے حق کو چھیننے کی سازش کر رہی ہے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ (ایس آئی آر کے حصے کے طور پر) والد اور دادا کی پیدائش کی تفصیلات مانگی جا رہی ہیں۔ حالانکہ راہل گاندھی نے نریندر مودی کا تعلیمی سرٹیفکیٹ طلب کیا تھا، لیکن انہیں سامنے نہیں لایا گیا اور یہ کہہ دیا گیا کہ یہ معاملہ آر ٹی آئی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ وزیراعلیٰ نے سوال کیا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرٹیفکیٹ دکھانے میں کیا حرج ہے۔ حال ہی میں ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنی جانب سے مکمل کیے گئے 6 روزہ لیڈرشپ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے ریڈی نے کہا کہ اگر ان سے سرٹیفکیٹ مانگا گیا تو وہ اسے پیش کر دیں گے۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب آپ کا (وزیر اعظم نریندر مودی کا) تعلیمی سرٹیفکیٹ ایک راز ہے، تو ایسی صورت میں اگر ان ناخواندہ اور غریب لوگوں سے جنہیں تعلیم کے مواقع نہیں ملےووٹ دینے کا حق بہت سی شرائط لگا کر چھین لیا جاتا ہے، تو ان کے پاس راشن کارڈ، آدھار کارڈ، زمین اور سرکاری اسکیمیں بھی نہیں رہیں گی۔ اس کے پیچھے ایک سازش ہے اور غریبوں کو دبانے کی سوچ ہے۔ جب آئین کو مکمل طور سے تبدیل کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے تو اس پر دوسرے طریقے سے حملہ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بی آر ایس لیڈران کے اس تبصرے پر اعتراض ظاہر کیا کہ فون ٹیپنگ معاملہ میں کے سی آر کے خلاف تحقیقات تلنگانہ معاشرے کی توہین ہے، کیونکہ سابق وزیراعلیٰ ’بابائے تلنگانہ‘ اور ’تحریک تلنگانہ کے مجاہد‘ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ’’تلنگانہ جن سمیتی (ٹی جے ایس) کے لیڈر ایم کوڈنڈا رام، جنہوں نے علیحدہ ریاست کی تحریک کے دوران سیاسی جماعتوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جوائنٹ ایکشن کمیٹی) کی قیادت کی تھی، سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں پولیس نے ان کے گھر کے دروازے توڑ کر انہیں گرفتار کیا تھا۔‘‘ ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ کیا کوڈنڈا رام تحریک کے مجاہد نہیں ہیں؟ کوڈنڈا رام نے ایسا کون سا بڑا جرم کیا تھا کہ ان کے گھر کے دروازے توڑ کر پولیس انہیں گھسیٹ کر لے گئی؟ کیا آپ (بی آر ایس) تلنگانہ تحریک کے مجاہدوں کو بھول گئے ہیں؟
واضح رہے کہ فون ٹیپنگ معاملے میں کے سی آر نے مطالبہ کیا ہے کہ تلنگانہ پولیس کی ایس آئی ٹی حیدرآباد کی رہائش گاہ کے بجائے فارم ہاؤس پر پوچھ تاچھ کرے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ کیا سابق وزیر اعلیٰ کا یہ موقف اس شخص کی حیثیت کے مطابق ہے جسے ’بابائے تلنگانہ‘ کہا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شیبو سورین، لالو پرساد، جے للیتا اور یدی یورپا سمیت مختلف ریاستوں کے سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی پوچھ تاچھ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔