قومی خبریں

مہاراشٹر: ’آر ایس ایس اور بڑے مندروں کے فنڈز کی بھی جانچ ہو‘، مدارس کی تحقیقات پر کانگریس لیڈر حسین دلوائی کا سخت موقف

حسین دلوائی نے الزام عائد کیا کہ ’’مدارس کی تحقیقات کے نام پر خاص طبقے کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں کئی طرح کے سماجی، مذہبی اور نظریاتی ادارے کام کر رہے ہیں، جنہں مختلف ذرائع سے فنڈز ملتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر حسین دلوائی (ویڈیو گریب)</p></div>

کانگریس لیڈر حسین دلوائی (ویڈیو گریب)

 

مدارس کی تحقیقات اور ان کے فنڈنگ ذرائع کے متعلق جاری بحث پر کانگریس لیڈر حسین دلوائی کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’اگر تحقیقات ہونی ہے تو وہ صرف مدارس تک ہی محدود کیوں رہے، بلکہ تمام اداروں کی یکساں طور پر جانچ کی جانی چاہیے۔ اگر آپ مدارس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ پوچھ رہے ہیں کہ فنڈز کہاں سے آتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ آر ایس ایس کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟ اس کی بھی جانچ کیجیے۔‘‘

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’بڑے مندروں کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟ اس کی بھی تحقیقات کیجیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ صرف مدارس ہی کی بات کیوں؟ سب کی بات کیجیے۔‘‘ حسین دلوائی نے الزام عائد کیا کہ ’’مدارس کی تحقیقات کے نام پر خاص طبقے کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں کئی طرح کے سماجی، مذہبی اور نظریاتی ادارے کام کر رہے ہیں، جنہں مختلف ذرائع سے فنڈز ملتے ہیں۔ ایسے میں اگر شفافیت کی بات کی جا رہی ہے تو یہ اصول سب پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔‘‘ کانگریس لیڈر کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔

Published: undefined

حسین دلوائی نے اپنے بیان میں واضح طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بڑے مندروں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’’ان اداروں کو ملنے والے فنڈز کی بھی اسی طرح تحقیقات ہونی چاہئیں جیسی مدارس کی کی جا رہی ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی غیر جانبداری اور بھروسہ قائم رہے گا۔ کانگریس لیڈر کے اس بیان کے بعد سیاسی ردعمل کا آنا طے مانا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اس مسئلہ پر حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ فی الحال مدرسوں کی تحقیقات کا معاملہ ایک بار پھر بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined