قومی خبریں

مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ پر پیشرفت، مسودہ تیار کرنے کے لیے 7 رکنی کمیٹی قائم، کانگریس کا وسیع مشاورت پر زور

مہاراشٹر حکومت نے یو سی سی کے لیے 7 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت 6 ماہ میں رپورٹ چاہتی ہے، جبکہ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسا قانون وسیع مشاورت اور اتفاق رائے کے ساتھ ہی بنایا جانا چاہیے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی سمت اقدام لیتے ہوئے اس کا مسودہ تیار کرنے اور مختلف قانونی، سماجی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام پر جہاں آئندہ قانون سازی کے امکانات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، وہیں اس معاملے پر مختلف طبقات، خصوصاً اقلیتی حلقوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے اور وسیع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ سبکدوش جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی یکساں سول کوڈ سے متعلق تمام قانونی، سماجی اور انتظامی امور کا تفصیلی مطالعہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی مختلف متعلقہ فریقوں، ماہرین اور دیگر طبقات کی آرا حاصل کرنے کے بعد اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی کو 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کی بنیاد پر یکساں سول ضابطہ کا حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا۔ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران اس سے متعلق بل اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پیش کیا جائے تاکہ آئینی اور قانونی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

یکساں سول ضابطہ کا مقصد شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور خاندانی معاملات سے متعلق قوانین میں تمام شہریوں کے لیے یکساں قانونی نظام نافذ کرنا بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس موضوع پر ملک میں طویل عرصے سے مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں اور متعدد سماجی و مذہبی تنظیمیں اس حوالے سے اپنے تحفظات بھی ظاہر کرتی رہی ہیں۔

دریں اثنا کانگریس کے سینئر رہنما سچن ساونت نے حکومت کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے رہنما اصولوں میں شامل یکساں سول ضابطہ کی شق سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی آئینی فکر کا حصہ تھی، اس لیے حکومت کو اس تاریخی پس منظر کا بھی اعتراف کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئینی تصور کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی اتفاق رائے اور وسیع مشاورت کے ذریعے ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق قانونی ماہرین، وکلا، مختلف برادریوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر ایسا مسودہ تیار کیا جانا چاہیے جو سبھی طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔ سچن ساونت نے کہا کہ اگر مجوزہ قانون تعمیری، جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہوگا تو کانگریس اس کی حمایت کرے گی، لیکن اگر اسے سیاسی تنازع یا سماجی تقسیم پیدا کرنے کے مقصد سے لایا گیا تو پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔